🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. وَجْهُ اقْتِرَانِ سُورَةِ الْأَنْفَالِ بِالْبَرَاءَةِ
سورۂ انفال کے سورۂ براءت کے ساتھ ملنے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2911
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحُسَين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عَوف بن أبي جَميلة، حدثنا يزيدُ الفارسي قال: قال لنا ابن عبَّاس: قلت لعثمانَ بن عفَّان: ما حَمَلَكم على أن عَمَدتُم إلى الأنفال وهي من المَثَاني، وإلى براءةَ، وهي من المِئِين، فقَرَنتُم بينهما ولم تكتبوا بينهما سَطْرَ: بسم الله الرحمن الرحيم، ووَضَعتُموها في السَّبْع الطُّوَل، ما حَمَلَكم على ذلك؟ فقال عثمان: إنَّ رسول الله ﷺ كان يأتي عليه الزمانُ تَنزِلُ عليه السُّوَرُ ذواتُ عددٍ، فكان إذا نَزَل عليه الشيءُ يدعو بعضَ مَن كان يكتبُه فيقول:"ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا"، وتَنزِلُ عليه الآيةُ فيقول:"ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَر فيها كذا وكذا"، فكانت الأنفال من أوائل ما أُنزِلَ بالمدينة، وبراءةُ من آخر القرآن، فكانت قِصَّتُها شبيهةً بقصَّتِها، فقُبِضَ رسولُ الله ﷺ ولم يُبيِّن لنا أنها منها، فظَنَنَّا أنها منها، فمن ثمَّ قَرَنتُ بينهما ولم أكتب بينهما سَطْرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے سورۂ انفال اور براۃ کو ایک دوسری کے ساتھ کیوں ملا دیا؟ اور ان کے درمیان ایک سطر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی، حالانکہ انفقال مثانی میں سے ہے اور براۃ مئین میں سے ہے (مثانی ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی آیات 100 سے کم ہیں اور مئین ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن آیات کی تعداد 100 سے زیادہ ہے، شفیق) اور آپ نے اس کو طوال مفصل میں شامل کیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رصی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت میں متعدد سورتوں کا نزول بھی ہوا کرتا تھا چنانچہ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب کو بلوا کر بتا دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو، جس میں فلاں فلاں مفہوم مذکور ہے۔ کوئی دوسری آیت نازل ہوتی تو آپ اس کے متعلق بھی راہنمائی فرما دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو جس میں فلاں فلاں ذکر موجود ہے اور سورۂ انفال مدینۃ المنورہ میں ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھی جبکہ سورۃ براۃ نزول قرآن کے بالکل اختتام میں نازل ہوئی ہے اور ان دونوں سورتوں کے مفاہیم بھی ایک دوسری سے ملتے جلتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت تک اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ ان میں سے کون سی آیت کس سورۃ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے میں نے ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور دونوں کو متصل کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2911]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں