المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. وجه اقتران سورة الأنفال بالبراءة
سورۂ انفال کے سورۂ براءت کے ساتھ ملنے کی وجہ
حدیث نمبر: 2911
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحُسَين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عَوف بن أبي جَميلة، حدثنا يزيدُ الفارسي قال: قال لنا ابن عبَّاس: قلت لعثمانَ بن عفَّان: ما حَمَلَكم على أن عَمَدتُم إلى الأنفال وهي من المَثَاني، وإلى براءةَ، وهي من المِئِين، فقَرَنتُم بينهما ولم تكتبوا بينهما سَطْرَ: بسم الله الرحمن الرحيم، ووَضَعتُموها في السَّبْع الطُّوَل، ما حَمَلَكم على ذلك؟ فقال عثمان: إنَّ رسول الله ﷺ كان يأتي عليه الزمانُ تَنزِلُ عليه السُّوَرُ ذواتُ عددٍ، فكان إذا نَزَل عليه الشيءُ يدعو بعضَ مَن كان يكتبُه فيقول:"ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَرُ فيها كذا وكذا"، وتَنزِلُ عليه الآيةُ فيقول:"ضَعُوا هذه في السورة التي يُذكَر فيها كذا وكذا"، فكانت الأنفال من أوائل ما أُنزِلَ بالمدينة، وبراءةُ من آخر القرآن، فكانت قِصَّتُها شبيهةً بقصَّتِها، فقُبِضَ رسولُ الله ﷺ ولم يُبيِّن لنا أنها منها، فظَنَنَّا أنها منها، فمن ثمَّ قَرَنتُ بينهما ولم أكتب بينهما سَطْرَ: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے سورۂ انفال اور براۃ کو ایک دوسری کے ساتھ کیوں ملا دیا؟ اور ان کے درمیان ایک سطر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی، حالانکہ انفقال ” مثانی “ میں سے ہے اور براۃ ” مئین “ میں سے ہے (مثانی ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی آیات 100 سے کم ہیں اور مئین ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن آیات کی تعداد 100 سے زیادہ ہے، شفیق) اور آپ نے اس کو طوال مفصل میں شامل کیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رصی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت میں متعدد سورتوں کا نزول بھی ہوا کرتا تھا چنانچہ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب کو بلوا کر بتا دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو، جس میں فلاں فلاں مفہوم مذکور ہے۔ کوئی دوسری آیت نازل ہوتی تو آپ اس کے متعلق بھی راہنمائی فرما دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو جس میں فلاں فلاں ذکر موجود ہے اور سورۂ انفال مدینۃ المنورہ میں ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھی جبکہ سورۃ براۃ نزول قرآن کے بالکل اختتام میں نازل ہوئی ہے اور ان دونوں سورتوں کے مفاہیم بھی ایک دوسری سے ملتے جلتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت تک اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ ان میں سے کون سی آیت کس سورۃ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے میں نے ان دونوں کے درمیان ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں لکھی اور دونوں کو متصل کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2911]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2911 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل يزيد الفارسي، فقد روى عنه غير واحد، وكان يكتب المصاحف كما وقع في خبر عند أحمد (3410)، وقال أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 9/ 294: لا بأس به. وحسّن الترمذي حديثه هذا، وصححه ابن حبان.
⚖️ درجۂ اسناد: یزید فارسی کی وجہ سے اس کی اسناد "حسن" ہے۔ ان سے متعدد راویوں نے روایت کی ہے اور یہ قرآن کے نسخے لکھا کرتے تھے (کاتبِ مصاحف)، جیسا کہ مسند احمد (3410) کی خبر میں ہے۔ 🔍 توثیق: ابوحاتم الرازی ("الجرح والتعدیل" 9/ 294) نے فرمایا: "لا بأس بہ" (ان میں کوئی حرج نہیں)۔ امام ترمذی نے ان کی اس حدیث کو حسن اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔
ويزيد الفارسي هذا فالراجح أنه غير يزيد بن هرمز الثقة المعروف، قال البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 367 وفي "الضعفاء" ص 122: قال لي علي - يعني ابن المديني -: قال عبد الرحمن - يعني ابن مهدي -: يزيد الفارسي هو ابن هرمز، قال: فذكرته ليحيى - يعني ابن سعيد القطان - فلم يعرفه، قال: وكان يكون مع الأمراء.
🔍 تحقیقِ راوی (تمیز): راجح بات یہ ہے کہ یہ "یزید فارسی"، مشہور ثقہ راوی "یزید بن ہرمز" سے الگ شخصیت ہیں۔ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (8/ 367) اور "الضعفاء" (ص 122) میں فرمایا: مجھے علی (ابن المدینی) نے بتایا کہ عبدالرحمن (ابن مہدی) کہتے تھے: "یزید فارسی ہی یزید بن ہرمز ہے"۔ علی کہتے ہیں: میں نے یہ بات یحییٰ (بن سعید القطان) کو بتائی تو انہوں نے اسے نہیں پہچانا اور فرمایا: "وہ (ابن ہرمز) تو امراء کے ساتھ ہوتا تھا۔"
وقال ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 9/ 293: اختلفوا في يزيد بن هرمز أنه يزيد الفارسي أم لا؟ فقال عبد الرحمن بن مهدي وأحمد: يزيد الفارسي هو يزيد بن هرمز، وأنكر يحيى بن سعيد القطان أن يكونا واحدًا، وسمعت أبي يقول: يزيد بن هرمز هذا ليس بيزيد الفارسي، هو سواه، فأما يزيد بن هرمز، فهو والد عبد الله بن يزيد بن هرمز، وكان ابن هرمز من أبناء الفرس الذين كانوا بالمدينة وجالسوا أبا هريرة، وليس هو بيزيد الفارسي البصري الذي يروي عن ابن عباس.
🔍 مزید تحقیق: ابن ابی حاتم ("الجرح والتعدیل" 9/ 293) فرماتے ہیں: محدثین کا اختلاف ہے کہ کیا یزید بن ہرمز ہی یزید فارسی ہے یا نہیں؟ عبدالرحمن بن مہدی اور امام احمد کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہی ہیں۔ جبکہ یحییٰ بن سعید القطان نے ان کے ایک ہونے کا انکار کیا ہے۔ میں نے اپنے والد (ابوحاتم) کو فرماتے سنا: "یزید بن ہرمز یہ یزید فارسی نہیں ہے، یہ اور شخص ہے۔ یزید بن ہرمز تو عبداللہ بن یزید بن ہرمز کے والد ہیں اور ان عجمیوں کی اولاد میں سے ہیں جو مدینہ میں تھے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ کی مجالس پائیں، جبکہ وہ (یزید فارسی) یہ یزید فارسی بصری نہیں ہے جو ابن عباس سے روایت کرتا ہے۔"
وقال المزي في "تهذيب الكمال": الصحيح أنَّ يزيد الفارسي غير يزيد بن هرمز.
📚 فیصلہ کن قول: مزی نے "تہذیب الکمال" میں فرمایا: صحیح بات یہی ہے کہ یزید فارسی، یزید بن ہرمز کے علاوہ (دوسرا شخص) ہے۔
وأخرجه أحمد 1/ (399) و (499)، وأبو داود (786) و (787)، والترمذي (3086)، والنسائي (7953)، وابن حبان (43) من طرق عن عوف بن أبي جميلة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن لا نعرفه إلَّا من حديث عوف عن يزيد الفارسي عن ابن عباس، ويزيد الفارسي قد روى عن ابن عباس غيرَ حديث، ويقال: هو يزيد بن هرمز.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (1/ 399، 499)، ابوداود (786، 787)، ترمذی (3086)، نسائی (7953) اور ابن حبان (43) نے عوف بن ابی جمیلہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ قولِ ترمذی: امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف عوف عن یزید فارسی عن ابن عباس کی روایت سے جانتے ہیں۔ یزید فارسی نے ابن عباس سے اور بھی احادیث روایت کی ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ یہ یزید بن ہرمز ہے۔
وسيأتي برقم (3311) من طريق روح بن عبادة عن عوف.
📌 حوالہ: یہ روایت نمبر (3311) پر روح بن عبادہ عن عوف کے طریق سے آئے گی۔