المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا
مشعرِ حرام کے اعتبار سے پوری مزدلفہ کی زمین شامل ہے
حدیث نمبر: 3133
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمَر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن ابن عمر قال: المَشعَر الحرام: المُزدلِفةُ كلُّها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3096 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3096 - على شرط البخاري ومسلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار کی ایک عورت قید ہوگئی، جبکہ اونٹنی (عضباء) اس سے پہلے قید ہو چکی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: شاید وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اسی پر دلالت کرتا ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ عورت ان (کافروں) میں (قید) تھی اور وہ اپنے اونٹ اس کے پاس لاتے تھے، ایک رات وہ عورت قید سے بھاگ نکلی اور اونٹوں کے پاس آئی، وہ جس اونٹ کے پاس جاتی اسے ہاتھ لگاتی تو وہ آواز نکالتا، وہ اسے چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ اس اونٹنی کے پاس آئی اور اس کو ہاتھ لگایا تو اس نے آواز نہ نکالی، اور یہ بڑی زور آور اونٹنی تھی۔ عورت اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی پھر اس عورت نے اسے ڈانٹا تو وہ چل پڑی۔ اس رات اس کی تلاش کی گئی لیکن وہ (کافر) اس پر قدرت حاصل نہ کر سکے، اس عورت نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس پر بچا لیا تو وہ اس کو قربان کر دے گی۔ جب وہ عورت مدینہ آئی تو لوگوں نے اونٹنی کو پہچان لیا اور انہوں نے کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔ تو اس عورت نے کہا کہ اس نے تو اس کی نذر مان لی ہے کہ اگر اللہ نے مجھے اس پر نجات دی تو اس کو نحر کروں گی۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کی قسم! تو اس کو نحر نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو ساری بات بتائی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس پر بچایا تو وہ اس کو نحر کرے گی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب سے) فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”سبحان اللہ!“ اس عورت نے برا بدلہ دیا کہ اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اسے نحر کر دے گی، جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور جس کا انسان یا ابن آدم مالک نہیں ہے، اس میں نذر نہیں ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سالم: هو ابن عبد الله بن عمر. وأخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (2699)، والطبري في "تفسيره" 2/ 288، وكذا ابن حاتم 2/ 353 من طرق عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3133] [ترقيم الشركة 3114] [ترقيم العلميه 3096]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح