🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ
رفث سے مراد عورتوں سے جنسی گفتگو اور تعلق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3130
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير عن الأعمش، عن زياد بن حُصَين، عن أبي العاليَة قال: كنت أَمشي مع ابن عبَّاس وهو مُحرِمٌ، وهو يَرتجِزُ بالإبل وهو يقول: وهنَّ يَمشِينَ بنا هَمِيسا …..................... قال: فقلت: أترفُتُ وأنت محرمٌ؟! قال: إنما الرَّفَثُ ما رُوجِعَ به النساءُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3093 - صحيح
ابوالعالیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ حالتِ احرام میں تھے، وہ اونٹوں کو ہنکانے کے لیے حدی خوانی (اشعار) کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اور وہ اونٹنیاں ہمیں دبی آواز میں چلتے ہوئے لے جا رہی ہیں... راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی کہ کیا آپ احرام کی حالت میں فحش کلامی ( «الرفث») کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: «الرفث» (فحش کلامی) تو وہ ہے جو عورتوں سے (جنس کے متعلق) کی جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3130] [ترقيم الشركة 3111] [ترقيم العلميه 3093]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3131
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: الرَّفَث: الجِماع، والفُسوق: ما أُصِيبَ من معاصي الله من صيدٍ وغيره، والجِدَال: السِّباب والمنازَعة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3094 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «الرفث» سے مراد جماع (ہم بستری) ہے، «الفسوق» سے مراد اللہ کی معصیت کے کام ہیں جیسے (حالتِ احرام میں) شکار کرنا وغیرہ، اور «الجدال» سے مراد گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق الراوي عن نافع: وهو ابن يسار صاحب السيرة.» [ترقيم الرساله 3131] [ترقيم الشركة 3112] [ترقيم العلميه 3094]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3132
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه قال: قُرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمع: حدثنا حماد بن مَسعَدة، حدثنا ابن أبي ذِئْب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عبَّاس: كانوا في أول الحج يبتاعون بمِنًى بسوق المَجَاز ومواسم الحج، فلما أُنزل القرآن خافوا البيعَ، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مواسم الحجِّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3095 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے ابتدائی دور میں لوگ منیٰ، سوق المجاز اور حج کے دیگر مقامات پر خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر جب قرآن نازل ہوا تو وہ تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تب اللہ عزوجل نے حج کے ایام کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ [سورة البقرة: 198]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3132]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3132] [ترقيم الشركة 3113] [ترقيم العلميه 3095]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں