المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
64. قِصَّةُ قَتْلِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی شہادت کا واقعہ
حدیث نمبر: 3183
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ﴾ [آل عمران: 21] ، قال: بَعَثَ عيسى ابنُ مريم يحيى بنَ زكريّا (2) في اثني عشر رجلًا من الحَوَاريِّين يعلِّمون الناس، فكان ينهاهم عن نِكاح ابنة الأخ، وكان ملكٌ له ابنةُ أخٍ تعجبُه، فأرادها، وجعل يَقْضي لها كلَّ يوم حاجةً، فقالت لها أمُّها: إذا سألكِ عن حاجَتِك فقولي: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال لها الملك: ما حاجتُك؟ فقالت: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِي غيرَ هذا، فقالت: لا أسألُ غيرَ هذا، فلما أَتَى أَمَرَ به فذُبِحَ فِي طَسْتٍ فنَدَرَت قَطْرةٌ من دمه، فلم تَزَلْ تَغْلي حتى بَعَثَ اللهُ بُخْتَنصَّر، فدلَّت عجوزٌ عليه، فأُلقيَ في نفسه أن لا يزالَ القتلُ حتى يَسكُنَ هذا الدمُ، فقتل في يومٍ واحد من ضربٍ واحدٍ وسِنٍّ واحدٍ سبعين ألفًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد غريب الإسناد والمتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3146 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد غريب الإسناد والمتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3146 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ (آل عمران: 21) ” اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ حواریوں میں بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کے دین کی) تعلیم دیں۔ چانچہ آپ لوگوں کو بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک بادشاہ تھا جو اپنی بھتیجی کو پسند کرتا تھا (اور اس سے شادی کرنے کا) ارادہ رکھتا تھا وہ روزانہ اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ اس لڑکی کی ماں نے اس سے کہا: اب جب وہ تجھ سے حاجت پوچھے تو کہنا: (میری حاجت یہ ہے کہ) تو یحیی بن زکریا علیہما السلام کو قتل کر دے۔ بادشاہ نے کہا: تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ تو یحیی بن زکریا علیہما السلام کو قتل کر دے۔ اس نے کہا: اس کے علاوہ کوئی اور سوال کرو۔ اس لڑکی نے کہا: میری حاجت اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ جب (سیدنا یحیی) آئے تو بادشاہ نے آپ کے قتل کا حکم دے دیا تو سیدنا یحیی علیہ السلام کو ایک بڑے تھال میں ڈال کر ذبح کر دیا گیا اور آپ کے خون کا ایک قطرہ اس میں سے نیچے گر گیا جو مسلسل بے قرار رہا اور اُبلتا رہا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بھیجا اور ایک بڑھیا نے بخت نصر کو یہ واقعہ بتا دیا، جس پر اس نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں (اس کی نسل کا) اس قدر قتل کروں گا کہ خون کے اس قطرہ کو سکون مل جائے۔ چنانچہ اس نے ایک دن میں ایک ہی حملے میں ایک ہی خاندان کے ستر ہزار آدمیوں کو تہہ تیغ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3183]