المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
92. سُؤَالُ قُرَيْشٍ أَنْ يُجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا
قریش کا مطالبہ کہ صفا پہاڑ کو ان کے لیے سونا بنا دیا جائے
حدیث نمبر: 3264
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن عِمران بن الحكم، عن ابن عبَّاس قال: قالت قريشٌ للنبي ﷺ: ادعُ اللهَ ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا، ونُؤمِنَ بك، قال:"أوَتفعلون؟" قالوا: نعم، قال: فدَعَا الله، فأتاه جبريل فقال:"إنَّ ربك يَقرأُ عليك السلامَ ويقول: إن شئتَ أصبح لهم الصفا ذهبًا، فمن كَفَرَ منهم عذَّبتُه عذابًا لا أعذِّبُه أحدًا من العالمين، وإن شئت فتحتُ لهم أبوابَ التوبة والرحمة" قال:"يا ربِّ، بابُ التوبةِ والرَّحمة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [6 - تفسير سورة الأنعام] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3225 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [6 - تفسير سورة الأنعام] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3225 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا (پہاڑ) کو سونا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم (واقعی) ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا فرمائی تو جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی: ”آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے صفا سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد ان میں سے جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں کسی کو نہیں دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی: ”اے میرے رب! توبہ اور رحمت کا دروازہ (ہی بہتر ہے)“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3264]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو مكرر (175).» [ترقيم الرساله 3264] [ترقيم الشركة 3244] [ترقيم العلميه 3225]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح