المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. عَطَاءُ آدَمَ أَرْبَعِينَ عَامًا مِنْ عُمُرِهِ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا آدم علیہ السلام کا اپنی عمر کے چالیس سال سیدنا داؤد علیہ السلام کو دینا
حدیث نمبر: 3296
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسَدي وعلي بن عبد العزيز قالا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلَمَ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لمَّا خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظهرَه، فسَقَط من ظهره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها إلى يوم القيامة أمثالَ الذَّرِّ، ثم جعل بين عينَيْ كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال آدم: مَن هؤلاء يا رب؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، فرأى آدمُ رجلًا منهم أعجبَه وَبِيصُ ما بينَ عينيه، فقال: يا ربِّ، من هذا؟ قال: هذا ابنُك داود يكون في آخر الأُمم، قال آدم: كم جعلتَ له من العُمر؟ قال: ستين سنة، قال: يا ربِّ زِدْه من عُمري أربعين سنةً حتى يكون عمرُه مئة سنة، فقال الله ﷿: إذًا يُكتَبَ ويُختَمَ فلا يُبدَّلُ، فلما انقضى عمرُ آدم جاءه مَلَكُ الموت لقَبْض روحه، قال: آدم: أوَلَم يَبْقَ من عمري أربعون سنة؟ قال له ملكُ الموت: أوَلَم تَجعَلْها لابنِك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَت ذُرِّيتُه، ونَسِيَ فنَسِيَت ذريتُه، وخَطِئَ فخَطِئَت ذريتُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3257 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3257 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت پر مسح کیا، اس سے وہ تمام روحیں (چیونٹیوں کی مانند) گر پڑیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا فرمانے والا تھا، پھر اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک پیدا کر دی، پھر انہیں آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ تیری اولاد ہے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت پسند آئی، انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داود ہے جو آخری امتوں میں ہوگا، آدم علیہ السلام نے پوچھا: آپ نے اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے؟ اللہ نے فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال اس (کی عمر) میں بڑھا دیں تاکہ اس کی عمر سو سال ہو جائے، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تب (یہ فیصلہ) لکھ دیا جائے گا اور اس پر مہر لگا دی جائے گی پھر اسے بدلا نہیں جائے گا، پس جب آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو ان کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے آئے، آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے ان سے کہا: کیا آپ نے وہ اپنے بیٹے داود کو نہیں دے دیے تھے؟ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: پس آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولنے لگی، اور ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطائیں ہونے لگیں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3296]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لين من أجل هشام بن سعد، وقد اختُلف عليه فيه:» [ترقيم الرساله 3296] [ترقيم الشركة 3276] [ترقيم العلميه 3257]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لين من أجل هشام بن سعد
حدیث نمبر: 3297
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن الأعمشِ ومنصورٍ، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ [الأعراف: 175] ، قال: هو بَلعَم بن أبر (1) . [8 - سورة الأنفال] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3258 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3258 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ ”اور آپ انہیں اس شخص کا حال سنائیں جسے ہم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا“ [سورة الأعراف: 175] کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”وہ بلعم بن ابر (نامی شخص) ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «والخبر إسناده صحيح،منصور: هو ابن المعتمر، وأبو الضحى: هو مسلم بن صُبيح، وعبد الله: هو ابن مسعود. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 1/ 243.» [ترقيم الرساله 3297] [ترقيم الشركة 3277] [ترقيم العلميه 3258]
الحكم على الحديث: والخبر إسناده صحيح