🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

119. ثُبُوتُ حِمَايَةِ الْحِمَى
محفوظ چراگاہ قائم کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3339
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا المعتمِر بن سليمان التَّيمي، حدثنا أَبي، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد مولى أبي أُسيد الأنصاري قال: سمع عثمانُ بن عفَّان أنَّ وفدَ أهل مصر قد أَقبلوا، فاستَقبَلَهم، فلما سمعوا به أَقبلوا نحوَه، قال: وكَرِهَ أَن يَقدَمُوا عليه المدينةَ، قال: فأَتَوْه فقالوا له: ادعُ بالمُصحف، وافتَتِح السابعةَ -وكانوا يسمُّون سورةَ يونس السابعةَ- فقرأَها حتى أَتى على هذه الآية: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [يونس: 59] ، قالوا له: قِفْ، أرأيتَ ما حَمَيتَ من الحِمَى، الله أَذِنَ لك أم على الله تَفتَري؟ قال: فقال: امضِهْ، نَزَلَت في كذا وكذا، فأمَّا الحِمَى فإنَّ عمر حَمَى الحِمَى قَبْلي لإبل الصدقة، فلما وَلِيتُ وزادت إبلُ الصدقة، فزِدتُ في الحِمَى لِما زادَ في الصدقة (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3300 - على شرط مسلم
ابوسعید مولیٰ ابواُسید انصاری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سنا کہ اہلِ مصر کا وفد آ رہا ہے تو آپ ان کے استقبال کے لیے نکلے، جب انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تو وہ آپ کی طرف بڑھے، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا کہ وہ مدینہ میں داخل ہوں، چنانچہ جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا: قرآن مجید منگوائیے اور ساتویں (سورت) نکالیے —وہ سورت یونس کو ساتویں کہتے تھے— پس آپ نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [سورة يونس: 59] آپ فرما دیجیے: بھلا تم نے دیکھا جو رزق اللہ نے تمہارے لیے نازل فرمایا پھر تم نے خود ہی اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال ٹھہرا لیا، کہیے: کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے کہا: ٹھہریے! آپ نے چراگاہوں کو جو مخصوص کیا ہے، اس کے بارے میں بتائیے کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے یا آپ اللہ پر بہتان باندھ رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آگے پڑھو، یہ آیت تو فلاں فلاں معاملے میں نازل ہوئی تھی، رہی بات چراگاہوں کی تو مجھ سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صدقے کے اونٹوں کے لیے چراگاہیں مخصوص کی تھیں، پھر جب میں خلیفہ بنا اور صدقے کے اونٹوں کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے صدقے کی زیادتی کی وجہ سے چراگاہ کے رقبے میں بھی اضافہ کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو الحرشي، وهو متابع. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري.» [ترقيم الرساله 3339] [ترقيم الشركة 3319] [ترقيم العلميه 3300]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3340
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا أبو النعمان، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، حدثنا أيوب، عن نافع قال: أطال الحَجَّاجُ الخُطْبَةَ، فوَضَعَ ابنُ عمر رأسَه في حِجْري، فقال الحجَّاج: إنَّ ابن الزُّبير بدَّل كتابَ الله، فقَعَدَ ابنُ عمر فقال: لا يستطيعُ ذاك أنت ولا ابنُ الزبير، ﴿لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ﴾ [يونس: 64] ، فقال الحجَّاج: لقد أُوتِيتَ عِلمًا إنْ نَفَعَك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3301 - على شرط البخاري ومسلم
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حجاج نے خطبہ لمبا کر دیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر میری گود میں رکھ لیا، حجاج نے دورانِ خطبہ کہا: ابن زبیر نے اللہ کی کتاب بدل دی ہے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: نہ تم ایسی طاقت رکھتے ہو اور نہ ہی ابن زبیر، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ﴾ [سورة يونس: 64] اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، اس پر حجاج نے کہا: بیشک آپ کو ایسا علم دیا گیا ہے جو شاید آپ کو نفع دے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسماعيل بن إسحاق: هو القاضي شيخ المالكية في العراق، وأبو النعمان: هو محمد بن الفضل عارم، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني.» [ترقيم الرساله 3340] [ترقيم الشركة 3320] [ترقيم العلميه 3301]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں