🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

121. تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ
سورۂ ہود کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3343
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا المكِّي، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأَزرَقي، حدثنا مُسلِم بن خالد، عن ابن خُثَيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ لمّا نَزَلَ الحِجرَ في غزوة تَبُوك قام فخَطَبَ الناسَ، فقال:"يا أيها الناسُ، لا تَسأَلوا نبيَّكم عن الآيات، فهؤلاءِ قومُ صالحٍ سألوا نبيَّهم أن يَبعَثَ لهم آيةً، فبَعَثَ الله لهم الناقةَ، فكانت تَرِدُ من هذا الفَجِّ فتشربُ ماءَهم يومَ وِرْدها، ويشربون من لبنِها مثلَ ما كانوا يَتروَّوْن من مائهم، فعَتَوْا عن أمر ربِّهم فعَقَرُوها، فوَعَدَهم الله ثلاثةَ أيام، وكان موعودًا من الله غيرَ مكذوب، ثم جاءتهم الصَّيحةُ فأَهلَكَ اللهُ مَن كان تحت مَشارِق السماوات ومَغارِبِها منهم إلَّا رجلًا كان في حَرَم الله، فمَنَعَه حَرَمُ الله من عذابِ الله" قالوا: يا رسول الله، من هو؟ قال:"أبو رِغَالٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3304 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب سورۃ حجر نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اے لوگو! اپنے نبی سے معجزات کا مطالبہ مت کیا کرو کیونکہ یہ صالح کی قوم ہے، انہوں نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی معجزہ دکھایا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیجی تو وہ پہاڑ کی پھٹن سے نکلتی، وہ ان کے حصہ کا پانی پیتی اور وہ لوگ اپنے پانی کی مقدار میں اس کا دودھ پیتے تھے، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کو قتل کر ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے تین دن کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ پھر ان پر ایک زوردار چیخ کی آواز آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا جو مشارق اور مغارب کے نیچے موجود تھے، سوائے ایک شخص کے جو حرم میں موجود تھا اور اللہ تعالیٰ کے حرم نے اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا رکھا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: ابورغال ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں