🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

170. تَفْسِيرُ آيَةِ (إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا)
آیت“مگر وہ جس نے رحمٰن کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہو”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3467
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا المسعوديُّ، عن عَوْن، عن الأسوَد بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود أنه قرأ ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [مريم: 87] ، قال: اتَّخِذُوا عند الرحمن عهدًا، فإنَّ الله يقول يومَ القيامة: من كان له عندي عهدٌ فليَقُمْ. قال: فقلنا: فعَلِّمْنا يا أبا عبد الرحمن، قال: قولوا: اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، إني أَعهدُ إليك في هذه الحياة الدنيا (2) ، إنك إنْ تَكِلْني إلى عملٍ (3) تُقرِّبْني من الشرِّ، وتُباعِدْني من الخير، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاجعله لي عندَك عهدًا تؤدِّيهِ إليَّ يومَ القيامة، إنك لا تُخلِفُ الميعادَ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [20 - ومن تفسير سورة طه]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3426 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے یہ آیت: اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا (مریم: 87) مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے ۔ تلاوت کی اور فرمایا: رحمن کے ہاں عہد باندھ لو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: جس کا میرے پاس کوئی عہد ہے وہ اٹھ کر کھڑا ہو (سیدنا اسود بن یزید) کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمیں اس کی تعلیم دیجئے! انہوں نے فرمایا: کہو: اللّٰھم فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰالمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ اِنِّیْ اَعْھَدْ اِلَیْکَ فِی ھٰذِہٖ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا بِاَنِّیْ اُشْھِدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِی تُقَڑِّبُنِی مِنَ الشَّرِّ وَتُبَاعِدُنِیْ مِنَ الْخَیْرِ وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِکَ فَاجْعَلْہُ لِیْ عِنْدَکَ عَھْدًا تَوَفَّیْتُہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَاد اے اللہ! اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کے عالم، میں اپنی اس دنیوی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور تو ہی وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے گا تو مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دے گا اور میں تو صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کرتا ہوں تو میرا یہ عہد اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور قیامت کے دن تک تو مجھے اس پر ثابت قدم رکھ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3467]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں