🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

196. شَرْحُ مَعْنَى الْخُشُوعِ
خشوع کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3524
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن المسعودي، أخبرني أبو سِنَان، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن علي بن أبي طالب: أنه سُئِلَ عن قوله ﷿: ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾، قال: الخشوعُ في القلب، وأن تُلِينَ كتفَك للمَرْءِ المسلم، وأن لا تلتفتَ في صلاتِك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3482 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے: الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلًاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ (المؤمنون: 2) وہ جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: خشوع دل میں ہوتا ہے اور یہ کہ تم مسلمان کے لیے سہارا بنو اور یہ کہ نماز کے دوران (ادھر اُدھر) توجہ مت کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3524]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3525
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو شعيب الحرَّاني، حدثني أَبي، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن أيوب، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا صلَّى رَفَعَ بصرَه إلى السماء، فنزلت: ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾، فطَأْطَأَ رأسَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين لولا خلافٌ فيه على محمدٍ، فقد قيل عنه مُرسَلًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3483 - الصحيح مرسل
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی نگاہ آسمان کی طرف رکھتے تھے پھر یہ آیت نازل ہوئی: الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلًاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ (المؤمنون: 2) وہ جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو جھکانا شروع کر دیا۔ ٭٭ کیونکہ اس کی سند میں محمد (نامی راوی) سے یہ حدیث مرسلاً روایت کرنے کا بھی ایک قول موجود ہے۔ اس لیے اگر محمد کے متعلق یہ اختلاف نہ ہو تو یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3525]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں