المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
199. إِزَالَةُ الشُّكُوكِ لِرَجُلٍ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے شبہات کا ازالہ
حدیث نمبر: 3531
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا حَكَّام بن سَلْم الرازي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن مُطرِّف، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: جاءه رجلٌ فقال له: يا أبا عبَّاس، إنَّ في نفسي من القرآنِ شيءٌ، قال: وما هو؟ فقال: شكٌّ، فقال: ويحكَ، هل سألتَ أحدًا غيري؟ فقال: لا، قال: هاتِ، قال: أَسْمَعُ اللهَ يقول: ﴿وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾ [الأحزاب: 27] ، كان هذا أَمرٌ قد كان؟ وقال: ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾ [المؤمنون: 101] ، وقال في آية أخرى: ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 27] ، ثم ذَكَرَ أشياء. فقال ابن عبَّاس: أما قوله: ﴿اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾، فإنه لم يَزَلْ ولا يزالُ، هو الأولُ والآخرُ والظاهرُ والباطنُ، وأما قولُه تعالى: ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾، فهذا في النَّفَخة الأُولى حين لا يَبقى على الأرض شيءٌ، فلا أنسابَ بينهم يومئذٍ ولا يَتساءَلون، وأما قولُه: ﴿فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 50] ، فإنهم لمّا دَخَلوا الجنة أقبلَ بعضُهم على بعض يتساءَلون (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3489 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3489 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے ابوعباس! میرے دل میں قرآن کے متعلق کچھ (خلجان) ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: شک ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: افسوس تم پر! کیا تم نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی پوچھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: (جو پوچھنا ہے) پوچھو، اس نے کہا: میں اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا ہوں ﴿وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 27] ”اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے،“ (لفظ «كان» کی وجہ سے) کیا یہ ایسا معاملہ تھا جو (ماضی میں) ہو چکا؟ اور اللہ نے فرمایا: ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 101] ”پھر اس دن ان کے درمیان نہ رشتے ناتے رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے،“ جبکہ دوسری آیت میں فرمایا: ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة الصافات: 27] ”اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھ گچھ کریں گے،“ پھر اس نے کچھ اور چیزیں بھی ذکر کیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک اللہ کے اس فرمان کا تعلق ہے ﴿اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾ تو اللہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے، اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾ تو یہ پہلے نفخہ (صور پھونکے جانے) کے وقت ہوگا جب زمین پر کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، تب ان کے درمیان نہ کوئی رشتہ ہوگا اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے، اور جہاں تک اللہ کے اس فرمان ﴿فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة الصافات: 50] کا تعلق ہے، تو جب لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہاں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر (شوق سے) حال احوال پوچھیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3531]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن أبي قيس. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، ومطرِّف: هو ابن طريف.» [ترقيم الرساله 3531] [ترقيم الشركة 3510] [ترقيم العلميه 3489]
الحكم على الحديث: خبر صحيح