🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

199. إِزَالَةُ الشُّكُوكِ لِرَجُلٍ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے شبہات کا ازالہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3531
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا حَكَّام بن سَلْم الرازي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن مُطرِّف، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: جاءه رجلٌ فقال له: يا أبا عبَّاس، إنَّ في نفسي من القرآنِ شيءٌ، قال: وما هو؟ فقال: شكٌّ، فقال: ويحكَ، هل سألتَ أحدًا غيري؟ فقال: لا، قال: هاتِ، قال: أَسْمَعُ اللهَ يقول: ﴿وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾ [الأحزاب: 27] ، كان هذا أَمرٌ قد كان؟ وقال: ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾ [المؤمنون: 101] ، وقال في آية أخرى: ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 27] ، ثم ذَكَرَ أشياء. فقال ابن عبَّاس: أما قوله: ﴿اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا﴾، فإنه لم يَزَلْ ولا يزالُ، هو الأولُ والآخرُ والظاهرُ والباطنُ، وأما قولُه تعالى: ﴿فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ﴾، فهذا في النَّفَخة الأُولى حين لا يَبقى على الأرض شيءٌ، فلا أنسابَ بينهم يومئذٍ ولا يَتساءَلون، وأما قولُه: ﴿فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 50] ، فإنهم لمّا دَخَلوا الجنة أقبلَ بعضُهم على بعض يتساءَلون (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3489 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! میرے دل میں قرآن کے متعلق کوئی بات ہے۔ آپ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: شک ہے۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی بات کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا مجھے بتاؤ۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (الاحزاب: 27) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر تھا ۔ (اس کا مطلب یہ ہوا کہ) وہ صرف زمانہ ماضی میں قادر تھا (اب نہیں ہے) اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَّلَا یَتَسَآءلُوْنَ (المؤمنون: 101) نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں ۔ جبکہ دوسری آیت میں فرمایا ہے: وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآءلُوْنَ (الصفات: 27) تو ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا آپس میں پوچھتے ہوئے ۔ پھر اس کے بعد اس نے مزید بھی چند چیزوں کا ذکر کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول: وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (الاحزاب: 27) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سے زمانہ موجودہ یا آئندہ میں اللہ کی قدرت کی نفی نہیں ہوتی) کیونکہ وہ ذات ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی، وہی اول ہے، وہی آخر بھی ہے، وہ ظاہر ہے اور وہی باطن بھی ہے اور جہاں تک تعلق ہے اس آیت کا: فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَّلَا یَتَسَآءلُوْنَ (المؤمنون: 101) تو یہ نفخہ اولیٰ (پہلے صور) کی بات ہے، جب زمین پر کوئی چیز باقی ہی نہیں رہے گی، تو اس دن نہ ان میں رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں گے اور جس آیت میں: وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآءلُوْنَ (الصفات: 27) ہے (اس کا مطلب یہ ہے کہ) جب لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں بات چیت کریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3531]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں