🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

198. كَرَاهَةُ السَّمَرِ
رات کو غیر ضروری باتیں کرنے کی کراہت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3529
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: إنَّما كُرِهَ السَّمَرُ حين نَزَلَت هذه الآية: ﴿مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ﴾ [المؤمنون: 67] ، قال: مُستكبِرِينَ بالبيت يقولون: نحن أهلُه، ﴿تَهْجُرُونَ﴾ قال: كانوا يَهجُرونَه ولا يَعمُرونَه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3487 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رات کے وقت فضول کہانیاں سننا، سنانا، اس وقت مکروہ کیا گیا جب یہ آیت نازل ہوئی: مُسْتَکْبِرِیْنَ بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْنَ (المؤمنون: 67) رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے حق کو چھوڑتے ہوئے ۔ آپ فرماتے ہیں: وہ لوگ گھروں پر فخر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں، حق کو چھوڑتے تھے اس کو آباد نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3529]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3530
أخبرني أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم (3) ، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني يزيد النَّحْوي، أنَّ عِكرمةَ حدَّثه عن ابن عبَّاس قال: جاء أبو سفيان إلى رسول الله ﷺ فقال: يا محمدُ، أَنشُدُك اللهَ والرَّحِمَ، قد أَكَلْنا العِلْهِزَ - يعني الوَبَرَ والدمَ (4) - فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [المؤمنون: 76] (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3488 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابوسفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور بولا: میں اللہ تعالیٰ کی اور رحم کی قسم کھا کر کہتا ہوں: ہم جانور کا خون اور بال کھا لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَقَدْ اَخَذْٰناھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ (المؤمنون: 76) اور بے شک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں ۔ (،)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3530]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں