المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
222. تَحْرِيضُ قَارُونَ قَوْمَهُ عَلَى مَنْعِ الزَّكَاةِ
قارون کا اپنی قوم کو زکوٰۃ روکنے پر ابھارنا
حدیث نمبر: 3578
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا [أبو] (1) معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عبَّاس قال: لما أَتى موسى قومَه أَمَرَهم بالزَّكاة، فجَمَعَهم قارونُ فقال لهم: جاءكم بالصلاة وجاءكم بأشياءَ فاحتملتُموها، فتَحتمِلوا أن تُعطُوه أموالَكم؟ فقالوا: لا نحتملُ أن نُعطِيَه أموالَنا، فما تَرى؟ فقال لهم: أَرى أن أُرسلَ إلى بَغِيِّ بني إسرائيل فنُرسِلَها إليه فتَرمِيَه بأنه أرادَها على نفسها. فدعا اللهَ موسى عليهم، فأَمر اللهُ الأرضَ أن تطيعَه، فقال موسى للأرض: خُذِيهم، فأخَذَتهم إلى أعقابهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، ثم قال للأرض: خُذِيهم، فأخَذَتهم إلى رُكَبِهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال للأرض: خذيهم فأخذتهم إلى أعناقهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال للأرض: خُذيهم، فأخَذَتهم فغيَّبَتهم، فأَوحى الله إلى موسى: يا موسى، سألكَ عبادي وتَضرَّعوا إليك فلم تُجِبْهم، وعِزَّتي لو أنهم دَعَوْني لأجبتُهم. قال ابن عبَّاس: وذلك قولُ الله ﷿: ﴿فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ﴾ [القصص: 81] ، خسفَ به إلى الأرض السُّفلَى (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [29 - ومن تفسير سورة العنكبوت] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3536 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [29 - ومن تفسير سورة العنكبوت] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3536 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں زکوٰۃ (کی ادائیگی) کا حکم دیا، تو قارون نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا: ”یہ (موسیٰ علیہ السلام) تمہارے پاس نماز اور دیگر احکام لے کر آئے اور تم نے ان سب کو برداشت کر لیا، تو کیا اب تم یہ بھی برداشت کرو گے کہ وہ تمہارے مال بھی تم سے لے لیں؟“ لوگوں نے کہا: ”ہم اپنے مال دینے کی طاقت نہیں رکھتے، تمہاری کیا رائے ہے؟“ اس نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ ہم بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کے پاس پیغام بھیجیں کہ وہ ان (موسیٰ علیہ السلام) پر یہ الزام لگائے کہ انہوں نے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔“ (اس سازش کے بعد) موسیٰ علیہ السلام نے ان کے خلاف اللہ سے دعا کی، پس اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ وہ ان (موسیٰ علیہ السلام) کی اطاعت کرے، موسیٰ علیہ السلام نے زمین سے فرمایا: ”انہیں پکڑ لے،“ تو زمین نے انہیں ٹخنوں تک جکڑ لیا، وہ پکارنے لگے: ”اے موسیٰ! اے موسیٰ! (ہمیں بچا لو)“، پھر آپ نے زمین سے فرمایا: ”انہیں پکڑ لے،“ تو زمین نے انہیں گھٹنوں تک پکڑ لیا، وہ پھر پکارنے لگے: ”اے موسیٰ! اے موسیٰ!“، پھر آپ نے زمین سے فرمایا: ”انہیں پکڑ لے،“ تو زمین نے انہیں گردنوں تک دبا لیا، وہ پھر فریاد کرنے لگے: ”اے موسیٰ! اے موسیٰ!“، پھر آپ نے زمین سے فرمایا: ”انہیں پکڑ لے،“ تو زمین انہیں لے کر اندر دھنس گئی اور انہیں بالکل غائب کر دیا، تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ”اے موسیٰ! میرے بندوں نے تجھ سے سوال کیا اور تیرے سامنے گریہ و زاری کی مگر تو نے انہیں جواب نہ دیا، مجھے میری عزت کی قسم! اگر وہ (تجھ کے بجائے) مجھے پکارتے تو میں ضرور ان کی پکار قبول کر لیتا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے ﴿فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ﴾ [سورة القصص: 81] ”پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا،“ یعنی اسے تہہ در تہہ سب سے نچلی زمین تک دھنسا دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3578]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وعبد الله بن الحارث هو ابن نوفل الهاشمي.» [ترقيم الرساله 3578] [ترقيم الشركة 3557] [ترقيم العلميه 3536]
الحكم على الحديث: ضعيف لاضطرابه. إسحاق: هو ابن راهويه