🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

222. تَحْرِيضُ قَارُونَ قَوْمَهُ عَلَى مَنْعِ الزَّكَاةِ
قارون کا اپنی قوم کو زکوٰۃ روکنے پر ابھارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا [أبو] (1) معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عبَّاس قال: لما أَتى موسى قومَه أَمَرَهم بالزَّكاة، فجَمَعَهم قارونُ فقال لهم: جاءكم بالصلاة وجاءكم بأشياءَ فاحتملتُموها، فتَحتمِلوا أن تُعطُوه أموالَكم؟ فقالوا: لا نحتملُ أن نُعطِيَه أموالَنا، فما تَرى؟ فقال لهم: أَرى أن أُرسلَ إلى بَغِيِّ بني إسرائيل فنُرسِلَها إليه فتَرمِيَه بأنه أرادَها على نفسها. فدعا اللهَ موسى عليهم، فأَمر اللهُ الأرضَ أن تطيعَه، فقال موسى للأرض: خُذِيهم، فأخَذَتهم إلى أعقابهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، ثم قال للأرض: خُذِيهم، فأخَذَتهم إلى رُكَبِهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال للأرض: خذيهم فأخذتهم إلى أعناقهم، فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال للأرض: خُذيهم، فأخَذَتهم فغيَّبَتهم، فأَوحى الله إلى موسى: يا موسى، سألكَ عبادي وتَضرَّعوا إليك فلم تُجِبْهم، وعِزَّتي لو أنهم دَعَوْني لأجبتُهم. قال ابن عبَّاس: وذلك قولُ الله ﷿: ﴿فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ﴾ [القصص: 81] ، خسفَ به إلى الأرض السُّفلَى (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [29 - ومن تفسير سورة العنكبوت]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3536 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو قارون نے ان سب کو جمع کر کے کہا: اس نے تمہیں نماز کا حکم دیا اور دیگر کئی احکام دیئے جن کو تم نے برداشت کر لیا، اب تم اپنے اموال سے زکوۃ دینا برداشت کر لو گے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں۔ ہم یہ برادشت نہیں کریں گے کہ اپنے اموال اس کے حوالے کر دیں۔ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ہم بنی اسرائیل کی بدکار عورت کو یہ سب کچھ دے کر، بھیجیں گے کہ وہ ان کو دے دے اور وہ اس پر یہ الزام لگا دے کہ انہوں نے اس کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا۔ تب موسیٰ علیہ السلام نے ان کے حق میں بددعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کرے۔ موسیٰ علیہ السلام نے زمین سے کہا: ان کو پکڑ لے۔ زمین نے ان کو ٹخنوں تک پکڑ لیا، وہ لوگ یا موسیٰ علیہ السلام، یا موسیٰ علیہ السلام کہہ کر آپ کو پکارنے لگے۔ آپ نے پھر زمین سے کہا: ان کو پکڑ لے۔ زمین نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا وہ پھر یا موسیٰ علیہ السلام یا موسیٰ علیہ السلام کی ندائیں دینے لگے۔ آپ نے پھر زمین سے کہا: ان کو پکڑ لے۔ زمین نے ان کو گردنوں تک پکڑ لیا وہ پھر یا موسیٰ علیہ السلام یا موسیٰ علیہ کہہ کر ندائیں دینے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر زمین سے کہا: ان کو پکڑ لے۔ زمین نے ان کو اپنے اندر دھنسا لیا اور یہ لوگ بالکل غائب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: اے موسیٰ علیہ السلام! میرے بندوں نے تجھ سے سوال کیا اور تیری طرف بہت آہ و زاری کی لیکن تو نے ان کی بات نہیں مانی، مجھے میری عزت کی قسم ہے، اگر یہ لوگ مجھے پکارتے تو میں ان کی پکار کو سنتا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا فَخَسَفْنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الْاَرْضَ ۔ (القصص: 81) اور ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3578]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں