🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

226. تَوْضِيحُ مَعْنَى (الم غَلَبَتِ الرُّومُ)
آیت ”الم، رومی مغلوب ہو گئے“ کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا معاوية بن عمرو بن المهلَّب الأَزْدي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان الثَّوْري، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان المسلمون يحبُّون أن تَظهَرَ الرومُ على فارسَ لأنهم أهلُ الكِتاب، وكان المشركون يحبُّون أن تظهرَ فارسُ على الرُّوم لأنهم أهلُ أوثان، فذَكَرَ ذلك المسلمون لأبي بكر الصِّدِّيق، فذَكَرَ ذلك أبو بكر للنبيِّ ﷺ، فقال له النبي ﷺ:"أمَا إنهم سيُهزَمُون"، فَذَكَرَ أبو بكر لهم ذلك فقالوا: اجعلْ بيننا وبينك أجَلًا، فإن ظَهَرُوا كان لك كذا وكذا، وإن ظَهَرْنا كان لنا كذا وكذا. فجَعَلَ بينهم أجَلَ خمسِ سنين، فلم يَظهَروا، فَذَكَرَ ذلك أبو بكر للنبي ﷺ فقال:"أَلَا جَعَلتَه - أُراه قال - دُونَ العَشَرة"، قال: فظَهَرَت الرومُ بعد ذلك، فذلك قولُه: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ قال: فغُلِبَت الرومُ ثم غَلَبَت بعدُ، ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ﴾. قال سفيان: وسمعتُ أنهم ظَهَروا يومَ بَدْر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3540 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم، فارس پر غالب آئے کیونکہ روم والے لوگ اہل کتاب تھے اور مشرکین یہ چاہتے تھے فارس، روم پر غالب آئے کیونکہ وہ بتوں کے پجاری تھے۔ مسلمانوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہرحال ان کو شکست ہو گی (یعنی فارس کو) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان سے کی۔ انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ شرط رکھ لو اگر وہ (روم) غالب آئیں گے تو تمہارے لیے اتنا اتنا انعام ہو گا اور اگر ہم جیت گئے تو ہمارے لیے اتنا اتنا انعام ہو گا۔ آپ نے ان کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کر دی۔ لیکن اس عرصے میں (روم) غالب نہ آ سکا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ کہہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس سال سے پہلے پہلے (روم غالب آ جائے گا) آپ فرماتے ہیں: اس کے بعد روم غالب آ گئے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: الٓمّٓ (الروم: 1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الروم: 2) فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ (الروم: 3) رومی مغلوب ہوئے۔ پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے ۔ چنانچہ روم مغلوب ہوئے پھر اس کے بعد غالب ہوئے۔ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ، وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰہِ (الروم: 4) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے ۔ (،) سیدنا سفیان فرماتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ لوگ بدر کے دن غالب ہوئے (یعنی اہل روم اسی دن فارس پر غالب جس دن غزوۂ بدر ہوا تھا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3582]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں