🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

233. نَعْمَاءُ اللَّهِ عَلَى الَّذِينَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
ان لوگوں پر اللہ کی نعمتیں جو راتوں کو بستروں سے جدا رہتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3591
حدثنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الله بن سُوَيد بن حيَّان، حدثني أبو صَخْر، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد قال: بَيْنا نحن عندَ رسول الله ﷺ وهو يَصِفُ الجنةَ حتى انتهى، ثم قال:"فيها ما لا عينٌ رأَتْ، ولا أُذنٌ سَمِعَت، ولا خَطَرَ على قلبِ بَشَر"، ثم قرأ ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ إلى آخر الآية [السجدة: 16] . قال أبو صخر: فذكرتُه (2) للقُرَظي فقال: إنهم أَخفَوْا لله عملًا وأخفى لهم ثوابًا، فقَدِمُوا على الله فقَرَّت تلك الأعينُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3549 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی صفات بیان فرما رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل فرمائی، پھر فرمایا: اس (جنت) میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ [سورة السجدة: 16] ابوصخر کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر امام قرظی سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے اللہ کی خاطر اپنے عمل کو چھپایا تو اللہ نے بھی ان کے لیے ان کا اجر چھپا کر رکھا، پس جب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن سويد بن حيان وأبي صخر» [ترقيم الرساله 3591] [ترقيم الشركة 3570] [ترقيم العلميه 3549]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3592
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو الأحوَص، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة قال: قال عبد الله: إنه مكتوبٌ في التَّوراة: لقد أعدَّ الله للَّذين تتجافَى جنوبُهم عن المضاجع ما لم تَرَ عينٌ، ولم تَسمَعْ أُذنٌ، ولم يَخطُرْ على قلب بشرٍ، ولا يعلمُه مَلَكٌ مقرَّبٌ ولا نبيٌّ مُرسَلٌ. قال: ونحن نقرؤُها: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِى لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: 17] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3550 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تورات میں یہ درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں (یعنی تہجد گزاروں کے لیے) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا، اور نہ اسے کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ کوئی نبی مرسل۔ انہوں نے کہا: اور ہم اسے (قرآن میں) یوں پڑھتے ہیں ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة السجدة: 17] پس کوئی نفس نہیں جانتا جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3592]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات إلّا أنَّ أبا عبيدة» [ترقيم الرساله 3592] [ترقيم الشركة 3571] [ترقيم العلميه 3550]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3593
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، عن عبد الله، ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [السجدة: 21] ، قال: يومُ بدرٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3551 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [سورة السجدة: 21] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) جنگِ بدر کا دن ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3593]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو الضحى: هو مسلم بن صبيح.» [ترقيم الرساله 3593] [ترقيم الشركة 3572] [ترقيم العلميه 3551]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں