المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
232. ذِكْرُ مُعَظَّمَاتِ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَاتِ وَجَزَائِهَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى
نیک اعمال کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اجر کا بیان
حدیث نمبر: 3590
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري - واللفظُ له - حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت والحَكَم بن عُتَيبة، عن ميمون بن أبي شَبِيب، عن معاذ بن جَبَل قال: بينما نحنُ مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوكَ وقد أصابنا الحرُّ، فتفرَّقَ القومُ حتى نَظَرتُ فإذا رسولُ الله ﷺ أقربُهم مني، قال: فدَنَوتُ منه فقلت: يا رسول الله، أنبِئْني بعمل يُدخِلُني الجنةَ ويباعدُني من النار، قال:"لقد سألتَ عن عظيمٍ، وإنه لَيسيرٌ على مَن يَسَّره اللهُ عليه: تعبدُ اللهَ لا تُشرِكُ به شيئًا، وتقيمُ الصلاةَ المكتوبة، وتؤتي الزكاةَ المفروضة، وتصومُ رمضانَ" قال:"وإن شئتَ أنبأتُك بأبواب الجنَّة" قلت: أجل يا رسول الله، قال:"الصومُ جُنَّةٌ، والصدقةُ تكفِّرُ الخطيئةَ، وقيامُ الرجل في جَوْف الليل يبتغي وجهَ الله" قال: ثم قرأ هذه الآية: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ [السجدة: 16] ، قال:"وإن شئتَ أنبأتُكَ برأسِ الأمر وعمودِه وذِرْوةِ سَنَامِه" قال: قلت: أجل يا رسول الله، قال:"أمَّا رأسُ الأمر فالإسلامُ، وأما عمودُه فالصلاةُ، وأما ذِروةُ سنامِه فالجهادُ في سبيل الله، وإن شئتَ أنبأتُك بأَمْلكِ ذلك كلِّه" قال: فسَكَت، فإذا راكبان يُوضِعانِ قِبَلَنا، فخَشِيتُ أن يَشغَلاه عن حاجتي، قال: فقلت: ما هو يا رسول الله؟ قال: فأهوَى بإصبعه إلى فِيهِ، قال: فقلت: يا رسول الله، وإنا لنُؤَاخَذُ بما نقول بألسنتِنا، قال:"ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ جبلٍ، هل يَكُبَّ الناسَ على مَناخِرِهم في جهنَّمَ إلَّا حصائدُ ألسنتِهم" (1) . هذا لفظ حديث جَرِير، ولم يذكر أبو إسحاق الفَزَاري في حديثه الحكمَ بن عُتيبة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3548 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3548 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں موجود تھے کہ شدید گرمی پڑی، جس کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منتشر ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ میں سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: میں آپ کے اور بھی قریب آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے بہت عظیم سوال کیا ہے؟ اور یہ چیز اس شخص کے لیے تو بہت آسان ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرا، فرض نمازیں ادا کر، فرض زکوۃ ادا کر، ماہ رمضان کے روزے رکھ۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تجھے جنت کے دروازوں کے بارے میں بتاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹاتا ہے اور رضائے الٰہی کی خاطر آدمی کا رات کے پچھلے پہر قیام کرنا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (السجدۃ: 16) ” ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں “۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تجھے اصل بات، اس کی گہرائی اور اس کی بلندی بتاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: حقیقی امر تو ” اسلام “ ہے، اس کی گہرائی نماز ہے اور اس کی بلندی ” جہاد فی سبیل اللہ “ ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو ان تمام کے سرمایہ کے بارے میں بتاؤں؟ پھر آپ خاموش ہو گئے۔ اچانک دو سوار ہماری طرف آ رہے تھے مجھے یہ خدشہ ہوا کہ یہ آپ کو اپنی طرف متوجہ کر لیں گے اور میری بات ادھوری رہ جائے گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہے؟ آپ نے انگلی سے اپنے منہ کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہماری گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟ آپ نے فرمایا: اے ابن جبل! تیری ماں تجھے روئے لوگ جہنم میں ناک کے بل اوندھے ڈالے جائیں گے وہ سب ان کی زبان ہی کا کیا دھرا ہے۔ نوٹ: یہ الفاظ جریر کی روایت کے ہیں اور ابواسحاق فزاری نے اپنی حدیث میں حکم بن عتیبہ کا ذکر نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3590]