🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

239. مُعْجِزَةُ تَكْثِيرِ الطَّعَامِ عِنْدَ نِكَاحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - مَعَ زَيْنَبَ
نبی ﷺ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے موقع پر کھانے کے بڑھ جانے کا معجزہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عثمان، عن أنس بن مالك قال: لما تَزوَّج النبيُّ ﷺ زينبَ بَعَثَت أمُّ سُلَيم حَيْسًا في تَوْرٍ من حجارة، قال أنس: فقال ليَ النبي ﷺ:"اذهَبْ فَادْعُ مَن لَقِيتَ من المسلمين"، فذهبتُ فما رأيت أحدًا إلَّا دعوتُه، قال: ووَضَعَ النبيُّ ﷺ يدَه في الطعام ودعا فيه وقال ما شاءَ الله، قال: فجعلوا يأكلون ويَخرُجون، وبَقِيَت طائفةٌ في البيت، فجعل النبيُّ ﷺ يَستَحْيي منهم، وأطالوا الحديثَ؛ فخَرَجَ رسولُ الله ﷺ وتَرَكَهم في البيت، فأنزل الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ﴾ يعني: غير مُتحيِّنِينَ، حتَّى بلغ ﴿ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ﴾ [الأحزاب: 53] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3564 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تو سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مٹی کے ایک برتن میں حیس (کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا ہوا کھانا) بھیجا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جاؤ اور جو بھی مسلمان تمہیں ملے اس کو دعوت دے آؤ۔ میں چلا گیا اور مجھے جو بھی مسلمان نظر آیا، میں نے اس کو دعوت دے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور دعا مانگی اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ آپ نے پڑھا۔ آپ فرماتے ہیں: پھر لوگ کھانا کھا کھا کر جاتے رہے بالآخر ایک جماعت گھر میں باقی بچی (یہ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر گھر میں ہی بیٹھے رہے) اور بہت دیر تک بات چیت میں مشغول رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے حیاء کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے اور ان لوگوں کو وہیں چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ (الاحزاب: 53) اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ۔ ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹے باتوں میں دل بہلاؤ بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگوں تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی یہ آیت ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِھِنَّ تک نازل ہوئی۔ (پوری آیت کا ترجمہ اوپر دے دیا گیا ہے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3606]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں