المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
254. تَفْسِيرُ سُورَةِ يس - عَمَلُ سُورَةِ يس لِدَفْعِ قَسَاوَةِ الْقَلْبِ
سورۂ یٰس کی تفسیر: سورۂ یٰس کا عمل دل کی سختی دور کرنے کے لیے
حدیث نمبر: 3645
حدثنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحكم الحِبَري، حدثنا الحسن بن الحسين العُرَني، حدثنا عمرو بن ثابت بن أبي المِقدام، عن محمد بن مروان، عن أبي جعفر محمد بن علي قال: مَن وَجَدَ في قلبِه قسوةً فليَكْتُبْ ﴿يس (1) وَالْقُرْآنِ﴾ في جامٍ بزعفرانٍ ثم يَشرَبْه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوجعفر محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے دل میں سختی محسوس کرتا ہو اس کو چاہئے کہ کسی پیالے میں سورۃ یٰسین لکھ کر پی لے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3645]
حدیث نمبر: 3646
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حدثني جعفر بن محمدٍ ابنُ ابنةِ إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثني جدِّي، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي سفيان طَريف بن شِهاب (1) ، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كان بنو سَلِمةَ في ناحيةٍ من المدينة، فأرادوا أن يَنتقلوا إلى قُرْب المسجد، فأنزل الله ﷿: ﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ [يس: 12] ، فدعاهم رسولُ الله ﷺ فقال:"إنه تُكتَبُ آثَارُكم"، ثم قرأَ عليهم الآيةَ فتَرَكوا (2) .
هذا حديث صحيح عجيبٌ من حديث الثَّوْري، وقد أخرج مسلمٌ بعضَ هذا المعنى من حديث حُمَيد عن أنس (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3604 - تفرد به إسحاق الأزرق عنه صحيح
هذا حديث صحيح عجيبٌ من حديث الثَّوْري، وقد أخرج مسلمٌ بعضَ هذا المعنى من حديث حُمَيد عن أنس (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3604 - تفرد به إسحاق الأزرق عنه صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنو سلمہ مدینۃ المنورہ کے ایک نواحی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: اِنَّا نَحْنُ نُحْییِ الْمَوْتٰی وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَھُمْ (یٰس: 12) ” اور بیشک ہم مردوں کو جلائیں (زندہ کریں) گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا:” انہ یکتب اثارکم “ (بے شک تمہارے قدموں کے بدلے نیکیاں لکھی جاتی ہیں) پھر ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو بنو سلمہ نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ (اس آیت کے شان نزول کے بارے میں مفسر شہیر سیدنا علامہ مولانا مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنی سلمہ مدینہ طیبہ کے کنارے پر رہتے تھے، انہوں نے چاہا کہ مسجد شریف کے قریب آ بسیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، تم مکان تبدیل نہ کرو یعنی جتنی دور سے آؤ گے اتنے ہی قدم زیادہ پڑیں گے اور اجر و ثواب زیادہ ہو گا۔) ٭٭ یہ حدیث ثوری کی حدیث سے عمدہ اور صحیح ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حمید کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی سے ملتی جلتی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3646]