🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

285. إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ
اللہ نے تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جس طرح تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد، حَدَّثَنَا ابن إسحاق، عن الصَّبّاح بن محمد، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم﴾ الآية [الزخرف: 32] ، فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإِنَّ الله يُغطي الدنيا مَن أحبَّ ومن لا يُحِبُّ، ولا يُعطي الدِّينَ إِلَّا من يحبُّ، فمن أعطاه الدِّينَ فقد أحبَّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3671 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ (الزخرف: 32) کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم میں رزق تقسیم کر دئیے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم کر دئیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا تو اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب نہیں رکھتا لیکن دین صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے۔ تو جس کو اس نے دین عطا کیا، اس کے دل میں دین کی محبت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3713
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن عبيد بن حِسَاب، حَدَّثَنَا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن قَتَادة: أنه تلا هذه الآية: ﴿فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ﴾ [الزخرف: 41] فقال: قال أنس: ذَهَبَ رسولُ الله ﷺ وَبِقَيت النِّقمةُ، ولم يُرِ اللهُ نبيَّه ﷺ في أمَّته شيئًا يكرهُه حتَّى مَضَى، ولم يكن نبيٌّ إلَّا قد رأى العقوبةَ في أمَّته إلَّا نبيَّكم ﷺ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3672 - صحيح
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: فَاِمَّا نَذْھَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْھُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ (الزخرف: 41) تو اگر ہم تمہیں لے جائیں تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے۔ پھر کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گیا ہے، اب بدلہ باقی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی بھی نبی علیہ السلام کو اس کی امت میں جو تکلیف دکھاتا ہے، اس کو ختم بھی کر دیتا ہے اور ہر نبی نے اپنی امت کا عذاب دیکھا ہے سوائے تمہارے نبی کے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3713]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3714
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حَدَّثَنَا مسدَّد بن قَطَن، حَدَّثَنَا عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا معاوية بن هشام، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا المُغيرة بن النُّعمان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤْخَذُ بناسٍ من أصحابي ذاتَ الشِّمال فأقول: أصحابي أصحابي! فيقال: إنَّهم لم يزالوا مُرتدِّين على أعقابهم بعدَك، فأقولُ كما قال العبدُ الصالحُ عيسى ابن مريمَ: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ [المائدة: 117] " (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3673 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو پکڑ لیا جائے گا جو بائیں ہاتھ والے ہوں گے۔ میں اصحابی اصحابی کہہ کہہ کر ان کو پکاروں گا تو کہا جائے گا: یہ لوگ آپ کے بعد دین سے پھر گئے تھے تو پھر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے کہی تھی (وہ بات یہ ہے): وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ (المائدۃ: 117) اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں