المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
285. إن الله قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم
اللہ نے تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جس طرح تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد، حَدَّثَنَا ابن إسحاق، عن الصَّبّاح بن محمد، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم﴾ الآية [الزخرف: 32] ، فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإِنَّ الله يُغطي الدنيا مَن أحبَّ ومن لا يُحِبُّ، ولا يُعطي الدِّينَ إِلَّا من يحبُّ، فمن أعطاه الدِّينَ فقد أحبَّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3671 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3671 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ (الزخرف: 32) ” کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔“ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم میں رزق تقسیم کر دئیے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم کر دئیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا تو اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب نہیں رکھتا لیکن دین صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے۔ تو جس کو اس نے دین عطا کیا، اس کے دل میں دین کی محبت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3712]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3712 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح موقوفًا كما سلف بيانه برقم (94)، وهذا إسناد ضعيف لضعف الصباح بن محمد: وهو ابن أبي حازم البجلي. ابن إسحاق: هو أبان بن إسحاق الأسدي الهمداني، ومُرَّة: هو ابن شراحيل، وعبد الله: هو ابن مسعود.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ موقوفاً "صحیح" ہے جیسا کہ نمبر (94) پر بیان ہوا۔ یہ والی سند صباح بن محمد (ابن ابی حازم بجلی) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن اسحاق سے مراد ابان بن اسحاق اسدی ہمدانی، مرہ سے مراد ابن شراحیل اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔
وأخرجه أحمد 6/ (3672) عن محمد بن عبيد الطنافسي أخي يعلى، عن أبان بن إسحاق، بهذا الإسناد بأطول ممّا هنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6/ 3672) نے محمد بن عبید طنافسی (یعلیٰ کے بھائی) کے واسطے سے ابان بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جو یہاں مذکور متن سے طویل ہے۔
وسيأتي برقم (7488) من طريق إبراهيم بن إسحاق الزهري عن يعلى ومحمد ابني عبيد.
📝 نوٹ / توضیح: یہ آگے نمبر (7488) پر ابراہیم بن اسحاق زہری عن یعلیٰ و محمد پسرانِ عبید کے طریق سے آئے گی۔