🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

289. فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا
شبِ قدر میں سال بھر کے معاملات تقسیم کیے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3720
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ﴾ [الدخان: 29] ، قال: بفَقْدِ المؤمنِ أربعين صباحًا (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3679 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَمَآءُ وَ الْاَرْضُ (الدخان: 29) تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی۔ آپ فرماتے ہیں: ایک مومن کے انتقال پر زمین اور آسمان چالیس دن تک روتے رہتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3721
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم محمد بن إدريس، حَدَّثَنَا محمد بن يزيد بن سِنان الرُّهَاوي، حدثني جدِّي سِنان بن يزيد قال: خرجْنا مع علي بن أبي طالب حين تَوجَّه إلى معاوية بن أبي سفيان، قال: وجَريرُ بن سَهْم التَّميمي أمامَه يقول: يا فَرَسي سِيري وأُمِّي الشاما … وقَطِّعي الأحقافَ والأعلاما وقاتلي مَن خالفَ الإماما … إني لأرجو إن لَقِينا العاما جَمْعَ بني أُمَيَّةَ الطَّغَاما … أن نقتلَ العاصيَ (1) والهُمَاما وأن نُزيلَ من رجالٍ وإما فلما وصلنا المدائنَ قال جَريرٌ: عَفَتِ الرياحُ على رُسوم ديارِهمْ … فكأنَّما كانوا على مِيعادِ قال: فقال لي علي: كيف قلتَ يا أخا بني تَميمٍ؟ قال: فردَّ عليه البيتَ، فقال علي: ألا قلتَ: ﴿كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (25) وَزُرُوعٍ (2) وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (26) وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (27) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ [الدخان: 25 - 28] ، أيْ أخي، هؤلاء كانوا وارِثينَ فأصبحوا موروثِين، إنَّ هؤلاء كفروا النِّعمَ فَحَلَّت بهم النِّقَم. ثم قال: إياكم وكُفَرَ النِّعم، فتَحِلَّ بكم النَّقَم. قال أبو حاتم: قلت لمحمد بن يزيد بن سِنَان: جدُّك سنانٌ كان كبيرَ السِّن أدرَكَ عليًّا؟! قال: نعم، وشهد معه المَشاهد (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3680 - ما أبعده من الصحة
سیدنا سنان بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب روانہ ہوئے تو ہم بھی آپ کے ہمراہ نکلے اور جریر بن سہم تیمی ان کے آگے آگے یہ پڑھتے جا رہے تھے: اے میرے گھوڑے میرا سفر اور ارادہ ملک شام کا ہے تو ریت کے دراز و پیچیدہ تودوں اور اونچے پہاڑوں سے گزرتا جا۔ اور تو ہر اس شخص کو قتل کر جو امام برحق کی مخالفت کرے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس سال۔ بنی امیہ کے کمینے لشکر سے پالا پڑا تو ہم قاضیوں اور سرداروں کو قتل کر ڈالیں گے۔ اور لوگوں کے زہر دار کیڑے نکال کر رکھ دیں گے۔ آپ فرماتے ہیں: جب ہم مدائن پہنچے تو جریر نے کہا: ہواؤں نے ان کے شہروں کے آثار بھی مٹا ڈالے گویا کہ ان کا ایک وعدہ تھا۔ آپ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے بنی تمیم کے بھائی، تم نے کیا کہا؟ انہوں نے مذکورہ اشعار دوبارہ سنائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا: كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ، وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ، وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ، كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ (الدخان: 25، 26، 27، 28) کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے، اور کھیت اور عمدہ مکانات، اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے، ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے بھائی یہ لوگ واقعی وارث ہی تھے پھر یہ موروث ہو گئے ان لوگوں نے کفران نعمت کیا تو یہ انتقام کے مستحق قرار پائے پھر آپ نے فرمایا: کفران نعمت (ناشکری) سے بچو ورنہ تم بھی انتقام کے مستحق ہو جاؤ گے۔ نوٹ: ابوحاتم کہتے ہیں: میں نے محمد بن یزید بن سنان سے کہا: تیرا دادا سنان بوڑھا تھا؟ کیا اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا تھا؟ اس نے کہا، جی ہاں وہ کئی جنگوں میں آپ کے شریک رہے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3721]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3722
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حَدَّثَنَا أبو عمرو أحمد بن المبارَك، حدثني محمد بن رافع القُشَيري، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة أنها قالت: كان تُبَّعٌ رجلًا صالحًا، ألا تَرى أَنَّ الله ﷿ ذَمَّ قومه ولم يَذُمَّه؟ (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3681 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں تبع ایک نیک آدمی تھا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کی مذمت کی ہے، اس کی مذمت نہیں کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3722]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئْب، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أدري أتبَّعٌ لَعينًا كان أم لا، وما أدري أذو القَرنَينِ كان نبيًّا أم لا، وما أدري الحدودُ كفَّارةٌ لأهلِها أم لا" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3682 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تبع لعین تھا یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھا یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ حدود اہل حدود کے لئے کفارہ ہیں یا نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں