🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

290. فِي كَمْ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَكَانَ آخِرُ الْخَلْقِ فِي آخِرِ السَّاعَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دنوں کا بیان اور یہ کہ آخری مخلوق جمعہ کے آخری وقت میں پیدا ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3724
أخبرنا أبو بكر محمد بن القاسم بن سليمان الذُّهْلي، حَدَّثَنَا الحسن بن إسماعيل بن صَبِيح اليَشكُري (2) ، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا ابن عُيَينة، عن أبي سَعْد (3) ، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس في قول الله ﷿: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ﴾ [الدخان: 38] ، قال ابن عَبَّاس: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ في كم خُلِقَت السماوات والأرض؟ قال:"خَلَقَ الله أولَ الأيام يومَ الأحد، وخُلِقَت الأرض في يوم الأحد ويوم الاثنين، وخُلِقَت الجبال وشُقِّقَت الأنهار، وغُرِسَ في الأرض الثِّمار، وقُدِّر في كل أرض قُوتُها يومَ الثلاثاء ويومَ الأربعاء، ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا﴾ [فصلت: 11، 12] في يوم الخميس ويوم الجُمَعة، وكان آخرُ الخلق في آخرِ الساعات يومَ الجمعة، فلما كان يومُ السَّبت لم يكن فيه خلقٌ، فقالت اليهودُ فيه ما قالت، فأنزل الله ﷿ تكذيبَها: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38)[ق: 38] (4) .
هذا حديث قد أرسله عبدُ الرزاق عن ابن عُيينة عن أبي سَعْد، ولم يذكر فيه ابنَ عبّاس، وكتبناه متَّصلًا من هذه الرواية، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3683 - رواه عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي سعيد مرسلا لم يذكر ابن عباس
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ (الدخان: 38) اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر۔ کے متعلق فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: آسمان اور زمین کتنے عرصے میں تخلیق کئے گئے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا دن اتوار بنایا اور اتوار اور پیر میں زمین پیدا کی، منگل اور بدھ میں پہاڑ بنائے، نہریں بنائیں، زمین میں پھل پیدا کئے اور ہر زمین کی روزی مقرر فرمائی۔ پھر آسمان کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت یہ ایک دھواں سا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین سے فرمایا: ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ (حم السجدۃ: 11) دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے نا خوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے تو انہیں پورے سات آسمان کر دیا دو دن میں اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے۔ جمعرات اور جمعہ کے دن اور جب ہفتہ کا آغاز آیا تو اس میں کوئی تخلیق نہیں ہوئی تو یہود نے اس کے متعلق بہت باتیں بنائیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل فرمائی: وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ (ق: 38) اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی۔ ٭٭ اس حدیث کو عبدالرزاق نے ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ابوسعید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ارسال کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا جبکہ ہم نے مذکورہ سند کے ہمراہ اس کو متصلاً روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3725
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يَعلَى بن عُبيد، حَدَّثَنَا الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام بن الحارث، عن أبي الدَّرداء قال: قرأ رجلٌ عنده: (إِنَّ شجرةَ الزَّقُوم طعامُ اليَتِيم) ، فقال أبو الدرداء: قل: ﴿طَعَامُ الْأَثِيمِ﴾ [الدخان: 44] ، فقال الرجل: (طعامُ اليَتِيمِ) ، فقال أبو الدرداء: قل: (طعامُ الفاجر) (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3684 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک شخص نے یہ آیت پڑھی: اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِیْمِ (الدخان: 43، 44) بیشک تھوہڑ کا پیڑ، گنہگاروں کی خوراک ہے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: طَعَامُ الْاَثِیْم پڑھو (اس سے اس کا تلفظ صحیح ادا نہ ہو سکا) اس نے پڑھا طَعَامُ الْیَثِیْمِ تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم (اس کی بجائے یہ لفظ) پڑھو طَعَامُ الْفَاجِر ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں