المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
298. مَا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خَاتَمٍ
قومِ عاد پر بھیجی گئی ہوا کی مقدار انگوٹھی کے برابر تھی
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا معاذ بن نَجْدة القُرشي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بن عُقْبة، حَدَّثَنَا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: ما أَرسَلَ اللهُ على عادٍ من الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خاتَمي هذا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تفرَّد مسلمٌ بإخراج حديث مسعود بن مالك عن سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس:"نُصِرتُ بالصَّبَا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3699 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تفرَّد مسلمٌ بإخراج حديث مسعود بن مالك عن سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس:"نُصِرتُ بالصَّبَا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3699 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد پر میری اس انگوٹھی (کے سوراخ) کی مقدار کے برابر ہوا کے علاوہ اور کچھ نہیں بھیجا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اکیلے مسعود بن مالک کی روایت سے سیدنا ابن عباس کے واسطے سے ”میری مدد بادِ صبا کے ذریعے کی گئی“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3741]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اکیلے مسعود بن مالک کی روایت سے سیدنا ابن عباس کے واسطے سے ”میری مدد بادِ صبا کے ذریعے کی گئی“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل معاذ بن نجدة القرشي. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3741] [ترقيم الشركة 3720] [ترقيم العلميه 3699]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا النَّضر حدَّثه عن سليمان بن يَسَار، عن عائشةَ زوجِ النَّبِيّ ﷺ أنها قالت: ما رأيتُ رسول الله ﷺ قطُّ مُستجمِعًا ضاحكًا حتَّى أَرى منه لَهَواتِه، إنما كان يتبسَّم، قالت: وكان إذا رأى غيمًا أو ريحًا عُرِفَ في وجهه، فقلت: يا رسول الله، الناسُ إذا رأَوُا الغيمَ فَرِحُوا أن يكون فيه المطرُ، وأَراك إذا رأيتَه عُرِفَ في وجهك الكراهيَةُ! قال:"يا عائشةُ، وما يُؤْمِنُني أن يكون فيه عذابٌ، قد عُذِّب قومٌ بالريح، وقد أَتى قومًا العذابُ" وتلا رسولُ الله ﷺ ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ الآية [الأحقاف: 24] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3700 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3700 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کا کوا نظر آنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف تبسم فرمایا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر فکر کے آثار نمایاں ہو جاتے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی، لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار ہوتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے اس بات سے کیا مامون کر سکتا ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو، جبکہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا، اور یقیناً ایک قوم نے عذاب کو آتا ہوا دیکھا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ ”پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ ایک بادل ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، تو کہنے لگے کہ یہ تو ہمیں بارش دینے والا بادل ہے۔“ [سورة الأحقاف: 24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3742]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وعمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري، وأبو النضر: هو سالم بن أبي أمية.» [ترقيم الرساله 3742] [ترقيم الشركة 3721] [ترقيم العلميه 3700]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح