🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
298. مَا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خَاتَمٍ
قومِ عاد پر بھیجی گئی ہوا کی مقدار انگوٹھی کے برابر تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا النَّضر حدَّثه عن سليمان بن يَسَار، عن عائشةَ زوجِ النَّبِيّ ﷺ أنها قالت: ما رأيتُ رسول الله ﷺ قطُّ مُستجمِعًا ضاحكًا حتَّى أَرى منه لَهَواتِه، إنما كان يتبسَّم، قالت: وكان إذا رأى غيمًا أو ريحًا عُرِفَ في وجهه، فقلت: يا رسول الله، الناسُ إذا رأَوُا الغيمَ فَرِحُوا أن يكون فيه المطرُ، وأَراك إذا رأيتَه عُرِفَ في وجهك الكراهيَةُ! قال:"يا عائشةُ، وما يُؤْمِنُني أن يكون فيه عذابٌ، قد عُذِّب قومٌ بالريح، وقد أَتى قومًا العذابُ" وتلا رسولُ الله ﷺ ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ الآية [الأحقاف: 24] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3700 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کا کوا نظر آنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف تبسم فرمایا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر فکر کے آثار نمایاں ہو جاتے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی، لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار ہوتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے اس بات سے کیا مامون کر سکتا ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو، جبکہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا، اور یقیناً ایک قوم نے عذاب کو آتا ہوا دیکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ ایک بادل ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، تو کہنے لگے کہ یہ تو ہمیں بارش دینے والا بادل ہے۔ [سورة الأحقاف: 24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وعمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري، وأبو النضر: هو سالم بن أبي أمية.» [ترقيم الرساله 3742] [ترقيم الشركة 3721] [ترقيم العلميه 3700]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3742 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، وعمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري، وأبو النضر: هو سالم بن أبي أمية.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن وہب سے مراد عبد اللہ، عمرو بن حارث سے مراد ابو امیہ مصری اور ابو النضر سے مراد سالم بن ابی امیہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24369)، والبخاري (4828 - 4829) و (6092)، ومسلم (899) (16)، وأبو داود (5098) من طرق عن ابن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه، وهو عندهما بهذه السياقة إلّا في آخره فلفظه: "وقد رأى قوم العذاب فقالوا: هذا عارض ممطرنا".
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24369)، بخاری (4828-4829، 6092)، مسلم (899) اور ابو داؤد (5098) نے ابن وہب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے؛ لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک شمار کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔ بخاری و مسلم میں یہ اسی سیاق کے ساتھ ہے سوائے آخر کے، وہاں الفاظ ہیں: "ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہا: یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔"
وأخرجه أحمد 42/ (25342)، والنسائي (1845) من طريق طاووس، وأحمد 43 / (26037)، والبخاري (3206)، ومسلم (899) (14) و (15)، وابن ماجه (3891)، والترمذي (3257)، والنسائي (1844) و (11428)، وابن حبان (658) من طريق عطاء بن أبي رباح، كلاهما عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (42/ 25342) اور نسائی (1845) نے طاؤس کے طریق سے، اور احمد (43/ 26037)، بخاری (3206)، مسلم (899)، ابن ماجہ (3891)، ترمذی (3257)، نسائی (1844، 11428) اور ابن حبان (658) نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے، دونوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3742 in Urdu