المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
297. ذِكْرُ وَفَاةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 3738
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر الدارَبردي وأبو محمد الحسن بن محمد الحَلِيمي بمَرْو قالا: حَدَّثَنَا أبو الموجَّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت عن أم العلاء الأنصارية - وقد كانت بايَعَت رسولَ الله ﷺ قالت: طارَ لنا عثمانُ بن مَظْعون في السُّكَنَى حين أَقرَعَت الأنصارُ على سُكنَى المهاجرين، قالت فاشتَكي فمرَّضْناه حتَّى توفِّي، حتَّى جعلناه في أثوابه، قالت: فدخل رسولُ الله ﷺ، فقلت: رحمةُ الله عليك أبا السائب، فشهادَتي أنْ قد أكرَمَك الله، فقال النَّبِيّ ﷺ:"وما يُدريكِ؟" قالت: لا أدري والله يا رسول الله، قال:"أمَّا هو فقد جاءَه اليقينُ، وإني لأرجُو له الخيرَ من الله"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ [الأحقاف: 9] ، قالت أم العلاء: والله لا أُزكِّي أحدًا بعدَه أبدًا. قالت أم العلاء: ورأيتُ لعثمان في النوم عَينًا تجري، فجئتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال:"ذاكِ عملُه يَجْري له" (1) .
هذا حديث قد اختَلَف الشيخانِ في إخراجه فرواه البخاري عن عَبْدان مختصرًا، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصرا
هذا حديث قد اختَلَف الشيخانِ في إخراجه فرواه البخاري عن عَبْدان مختصرًا، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصرا
سیدہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، انہوں نے کہا: جب انصار نے مہاجرین کی رہائش کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے ہاں قیام کے لیے نکلا، پھر وہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی تیمارداری کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے اور ہم نے انہیں ان کے کفن کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے (میت کو مخاطب کر کے) کہا: اے ابوسائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو، میری گواہی ہے کہ اللہ نے یقیناً تمہارا اکرام فرمایا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، میں نہیں جانتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک ان کا تعلق ہے تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، اور میں ان کے لیے اللہ سے بھلائی کی امید رکھتا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا“ [سورة الأحقاف: 9] ، ام العلاء کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے بعد اب کبھی کسی کی (قطعی) پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔ ام العلاء کہتی ہیں کہ میں نے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان کا عمل ہے جو ان کے لیے جاری ہے“۔
اس حدیث کی روایت میں شیخین کا اختلاف ہے؛ امام بخاری نے اسے عبدان سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3738]
اس حدیث کی روایت میں شیخین کا اختلاف ہے؛ امام بخاری نے اسے عبدان سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزَي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3738] [ترقيم الشركة 3717] [ترقيم العلميه 3696]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3739
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، سمع صفوانَ بن عبد الله بن صفوان يقول: استَأْذَنَ سعدٌ على ابن عامر وتحته مَرافِقُ من حرير، فأَمَر بها فرُفِعَت، فَدَخَلَ وعليه مِطرَفُ خَزٍّ، فقال له: استأذنتَ عليَّ وتحتي مَرافقُ من حرير فأَمرتُ بها فرُفِعَت، فقال له: نِعمَ الرجلُ أنت يا ابنَ عامر إن لم تكن ممَّن قال الله ﷿: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [الأحقاف: 20] ، والله لأَنْ أَصْطَجَعَ على جَمْرِ الغَضَى، أحبُّ إليَّ من أن أضطجعَ عليها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عامر سے ملنے کی اجازت مانگی جبکہ ان کے نیچے ریشمی تکیے تھے، ابن عامر نے حکم دیا تو وہ ہٹا دیے گئے، پھر سعد رضی اللہ عنہ داخل ہوئے جبکہ انہوں نے ریشمی اونی چادر اوڑھ رکھی تھی، ابن عامر نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے اجازت مانگی تو میرے نیچے ریشمی تکیے تھے میں نے حکم دے کر انہیں ہٹوا دیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے ابن عامر! تم بہت اچھے آدمی ہو بشرطیکہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ ”تم اپنی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیاوی زندگی ہی میں گنوا چکے“ [سورة الأحقاف: 20] ، اللہ کی قسم! میرا دہکتے ہوئے انگاروں پر لیٹنا مجھے ان (ریشمی تکیوں) پر لیٹنے سے زیادہ محبوب ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3739]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى القرشي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، وسعد هو ابن أبي وقاص.» [ترقيم الرساله 3739] [ترقيم الشركة 3718] [ترقيم العلميه 3697]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3740
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا عبد الله بن الجرَّاح، حَدَّثَنَا القاسم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن دِينار، عن ابن عمر: أنَّ عمر رأَى في يدِ جابر بن عبد الله دِرهمًا، فقال: ما هذا الدِّرهمُ؟ فقال: أريد أن أشتريَ لأهلي بدرهم لحمًا قَرِمُوا إليه، فقال عمر: أكلَّما اشتهيتُم اشتريتموها، ما يريد أحدُكم أن يَطوِيَ بطنَه لابن عمِّه وجارِه، أين تذهبُ عنكم هذه الآية: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ [الأحقاف: 20] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3698 - القاسم واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3698 - القاسم واه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھا تو پوچھا: یہ درہم کیسا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے لیے ایک درہم کا گوشت خرید لوں کیونکہ انہیں اس کی بہت رغبت ہو رہی ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا جب بھی تمہیں کسی چیز کی اشتہا ہو تم اسے خرید لیتے ہو؟ کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے چچا زاد بھائی اور پڑوسی کے لیے اپنا پیٹ لپیٹ لے؟ تم سے یہ آیت کہاں چلی گئی ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ ”تم اپنی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیاوی زندگی ہی میں گنوا چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔“ [سورة الأحقاف: 20] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل القاسم بن عبد الله، فإنه متروك ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به فالخبر مشهور قد روي من غير وجه عن عمر.» [ترقيم الرساله 3740] [ترقيم الشركة 3719] [ترقيم العلميه 3698]
الحكم على الحديث: خبر صحيح