🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

335. جَوَابٌ عَلَى تِلَاوَةِ آيَةِ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ وَأَمْثَالِهَا
آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3822
حدثنا الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵁، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بِشْر بن جابانَ (1) الصَّنعاني، عن حُجْر بن قيس المَدَري قال: بِتُّ. عند أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فسمعتُه وهو يصلِّي من الليل يقرأُ فمرَّ بهذه الآية: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (59) ﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (64) ﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، بل أنت يا ربِّ، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69) ﴾ قال: بل أنت يا ربِّ ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (72) ﴾ قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3780 - صحيح
سیدنا حجر بن قیس المدری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں رات گزاری۔ آپ رات میں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کو نماز میں (سورہ واقعہ کی) قراءت کرتے ہوئے سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: اَفَرَئَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ اَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ) (الواقعۃ: 58، 59) تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو، کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں۔ تو آپ نے تین مرتبہ کہا: اے رب العالمین بلکہ تو ہی بنانے والا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: اَفَرَئَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ اَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ) (الواقعۃ: 63، 64) تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو، کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں۔ تو آپ نے کہا: بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب، بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب، بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: اَفَرَئَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ اَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ) (الواقعۃ: 68، 69) تو بھلا بتا تو وہ پانی جو پیتے ہو، کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم اتارنے والے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ کہا: بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: اَفَرَئَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ اَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَھَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ) (الواقعۃ: 71، 72) تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو، کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے۔ آپ نے تین مرتبہ کہا: بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3822]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3823
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أُنزِلَ القرآنُ في ليلة القَدْر من السماء العُلْيا إلى السماء الدُّنيا جُملةً واحدةً، ثم فُرِّق في السِّنين، قال: وتَلَا هذه الآية: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75)[الواقعة: 75] ، قال: نزل متفرِّقًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3781 - على شرط البخاري ومسلم
حصرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قرآن کریم شب قدر میں اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا پر یکبارگی نازل ہوا پھر متعدد سالوں میں الگ الگ نازل ہوا۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: فَلَأٓ اُقْسِمُ بِمَواٰاقِعِ النُّجُوْمِ (الواقعۃ: 75) تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: پھر قرآن تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3823]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3824
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79)[الواقعة: 77 - 79] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
عبدالرحمن بن یزیلہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے پھر آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر ہمارے پاس آ گئے۔ اس وقت ہمارے پاس یا ان کے پاس پانی نہ تھا (کہ وضو کیا جا سکے) ہم نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! اگر آپ باوضو ہوتے تو ہم آپ سے قرآن کریم کے متعلق کچھ مسائل پوچھتے۔ آپ نے فرمایا: تم سوال کرو، میں قرآن پاک کو چھوؤں گا نہیں۔ پھر آپ نے کہا: اس کو چھونے کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے (چھوئے بعیر اس کی تلاوت بے وضو کی جا سکتی ہے)۔ پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت کی: {إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 78] بیشک یہ عزت والا قرآن ہے اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3824]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3825
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا موسى بن أيوب الغافِقي، حدثني إياس بن عامر الغافقي قال: سمعت عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: لما نزلت ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (74)[الواقعة: 74] ، قال لنا رسول الله ﷺ:"اجعَلوها في رُكوعِكم"، فلما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (1) ﴾، قال:"اجعَلوها في سجودِكم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [57 - ومن تفسير سورة الحديد]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3783 - الحديث صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (الواقعۃ: 96) تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم یہ تسبیح رکوع میں پڑھ لیا کرو اور جب یہ آیت نازل ہوئی: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جو سب سے بلند ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اس کو سجدے میں پڑھ لیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3825]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں