المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
335. جواب على تلاوة آية أأنتم تخلقونه وأمثالها
آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
حدیث نمبر: 3824
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79) ﴾ [الواقعة: 77 - 79] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
عبدالرحمن بن یزیلہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے پھر آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر ہمارے پاس آ گئے۔ اس وقت ہمارے پاس یا ان کے پاس پانی نہ تھا (کہ وضو کیا جا سکے) ہم نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! اگر آپ باوضو ہوتے تو ہم آپ سے قرآن کریم کے متعلق کچھ مسائل پوچھتے۔ آپ نے فرمایا: تم سوال کرو، میں قرآن پاک کو چھوؤں گا نہیں۔ پھر آپ نے کہا: اس کو چھونے کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے (چھوئے بعیر اس کی تلاوت بے وضو کی جا سکتی ہے)۔ پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت کی: {إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 78] ” بیشک یہ عزت والا قرآن ہے اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔“ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3824]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3824 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وقد سلف برقم (664 م).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق سے مراد ابن راہویہ، جریر سے مراد ابن عبد الحمید اور ابراہیم سے مراد نخعی ہیں۔ یہ (664 م) پر گزر چکی ہے۔