المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
348. مُبَايَعَةُ هِنْدٍ وَفَاطِمَةَ بِنْتَيْ عُتْبَةَ
ہند اور فاطمہ بنتِ عتبہ کی بیعت
حدیث نمبر: 3847
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العبَّاس بن الفضل الأَسْفاطي؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيْس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن ابن عَجْلان، عن أبيه، عن فاطمة بنت عُتْبة بن رَبيعة بن عبدِ شمس: أنَّ أبا حُذَيفة بن عُتْبة أَتى بها ويهند بنت عُتبةَ رسولَ الله ﷺ تبايعُه، فقالت: أَخَذَ علينا فشَرَطَ علينا، قالت: قلت له: يا ابنَ عمِّ، وهل عَلِمتَ في قومك من هذه العاهات أو الهَنَاتِ شيئًا؟ قال أبو حُذيفة: إيهًا، فبايعيهِ، فإنَّ بهذا يُبايع، وهكذا يَشترِط، فقالت هند: لا أبايعُك على السَّرِقة، إني أسرقُ من مال زوجي، فكَفَّ النبيُّ ﷺ يدَه وكفَّت يدَها حتى أَرسَلَ إلى أبي سفيان فتحلَّلَ لها منه، فقال أبو سفيان: أما الرَّطْبُ فنعم، وأما اليابسُ فلا ولا نِعمةَ، قالت: فبايَعْناه، ثم قالت فاطمةُ: ما كانت فِئَةٌ (1) أبغضَ إِليَّ من فِئتِك ولا أحبَّ أن يُبيحَها اللهُ وما فيها، واللهِ ما من فِئةٍ أحبُّ إليَّ أن يُعمِّرَها اللهُ ويباركَ فيها من فِئتِك، فقال رسول الله ﷺ:"وأيضًا واللهِ لا يؤمنُ أحدُكم حتى أكونَ أحب إليه من ولدِه ووالدِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ 61 - ومن تفسير سورة (سبَّح) الصَّف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3805 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ 61 - ومن تفسير سورة (سبَّح) الصَّف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3805 - صحيح
سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ انہیں اور ہند بن عتبہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے لے آئے۔ آپ نے ہم سے کچھ عہد لئے اور ہم پر کچھ شرائط عائد کیں، آپ فرماتی ہیں: میں نے (ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے) کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! کیا تمہاری قوم میں اس طرح کی مصیبتیں ہوتی ہیں؟ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ ان کی بیعت کر لو، بیعت ایسے ہی ہوتی ہے اور شرائط ایسے ہی رکھی جاتی ہیں۔ ہند نے کہا: میں چوری کے بارے میں آپ کی بیعت نہیں کر سکتی کیونکہ میں اپنے شوہر کے مال میں سے چوری کرتی ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور اس نے بھی اپنا ہاتھ روک لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس کے لئے کچھ مال جائز کر دے۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: سبزیاں وغیرہ تو لے سکتی ہے لیکن یابس یعنی خشک مال اور نعمت میں اجازت نہیں۔ آپ فرماتی ہیں: تب ہم نے آپ کی بیعت کر لی۔ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ کے آستانے سے بڑھ کر مجھے کسی چیز سے نفرت نہ تھی اور نہ ہی مجھے یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس میں رہنے والے کو آباد کرے۔ لیکن اب خدا کی قسم! آپ کے آستانے سے زیادہ اور کسی چیز کے متعلق مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے رہنے والے کو آباد کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات یہی ہے۔ خدا کی قسم تم میں سے کوئی بھی اس وت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب اس کو اس کی اولاد اور ماں باپ سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3847]