المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
349. تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّفِّ - قِرَاءَةُ سُورَةِ الصَّفِّ مُسَلْسَلًا إِلَى الْمُؤَلِّفِ
تفسیرِ سورۃ الصف — سورۂ صف کی مسلسل قراءت تا مؤلف
حدیث نمبر: 3848
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدثنا الأوزاعي. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجْتَمَعْنا فتذاكَرْنا فقلنا: أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ يسألُه: أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرَّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه منا أحدٌ، فأرسَلَ إلينا رسولُ الله ﷺ فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضنا إلى بعض، فقرأ علينا رسولُ الله ﷺ: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) ﴾ إلى آخر السورة (1) . قال أبو سَلَمة: فقرأَها علينا عبدُ الله بن سَلَام من أولها إلى آخرها، قال يحيى: فقرأَها علينا أبو سَلَمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: فقرأَها علينا يحيى بن أبي كثير من أولها إلى آخرها، قال أبو إسحاق الفَزَاري: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها، قال معاوية بن عمرو: وقرأَها علينا أبو إسحاق الفَزَاري من أولها إلى آخرها، قال محمد بن أحمد الأزْدي: وقرأها علينا معاويةُ بن عمرو من أولها إلى آخرها، قال أبو بكر بن بالَوَيهِ: وقرأها علينا محمد بن أحمد بن النَّضْر من أولها إلى آخرها. قال الحاكم: وأنا أقول: قرأها علينا أبو بكر بن بالَوَيهِ من أولها إلى آخرها. وقد قرأها علينا الحاكمُ أبو عبد الله من أولها إلى آخرها.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ اکٹھے بیٹھے بات چیت کر رہے تھے، ہم نے سوچا کہ کسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پوچھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر ہم اس مجلس سے اٹھ گئے لیکن کسی کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوایا، ہم سب آپ کے پاس جمع ہو گئے، ہم ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے (کہ ہمارا مسئلہ حل ہونے والا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پوری سورہ صف پڑھی۔ ابوسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے پوری سورہ صف پڑھی۔ یحیی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابوسلمہ نے ہمارے سامنے یہ سورۃ از اول تا آخر پڑھی، اوزاعی کہتے ہیں: یحیی بن ابی کثیر نے ہمارے سامنے پوری سورۃ الصف پڑھی، ابواسحاق فزاری کہتے ہیں: اوزاعی نے ہمارے سامنے پوری سورۃ صف پڑھی۔ معاویہ بن عمرو کہتے ہیں: ہمارے سامنے ابواسحاق فزاری نے پوری سورۃ صف پڑھی۔ محمد بن احمد بن النضر کہتے ہیں: معاویہ بن عمرو نے ہمارے سامنے یہ پوری سورۃ پڑھی۔ ابوبکر بن بالویہ کہتے ہیں: محمد بن احمد بن النضر نے ہمارے سامنے یہ پوری سورۃ پڑھی۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اور میں کہتا ہوں کہ ابوبکر بن بالویہ نے ہمارے سامنے یہ پوری سورۃ پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3848]
حدیث نمبر: 3849
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: واعَدَ عيسى ﵇ أصحابَه اثنَيْ عشرَ رجلًا في بيتٍ، فخرج إليهم من عينٍ من جانب البيت يَنفُضُ رأسَه؛ وذكر حديثًا، وقال في آخره: فأَنزل الله ﷿: ﴿فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ﴾ [الصف: 14] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [62 - ومن تفسير سورة الجمعة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3807 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [62 - ومن تفسير سورة الجمعة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3807 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے ایک گھر میں بارہ آدمیوں کا وعدہ کیا تھا تو وہ ان کی طرف گھر کی مخالف جانب سے سر جھاڑتے ہوئے نکلے۔ پھر پوری حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰھِرِیْنَ (الصف: 14) ” تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد کی تو غالب ہو گئے۔“ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3849]