المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
388. كَلَامُ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ
ابن آدم کا کلام اسی کے خلاف ہوتا ہے سوائے امر بالمعروف کے
حدیث نمبر: 3936
حدَّثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن سليمان الواسطي، حدَّثنا محمد بن يزيد بن خُنَيس قال: كنا عند سفيان الثَّوْري نعودُه فدَخَل عليه سعيدُ بن حسَّان المخزومي، وكان قاصَّ جماعتِنا، وكان يقومُ بنا في شهر رمضان، فقال له سفيان: كيف الحديثُ الذي حدَّثْتَني عن أمِّ صالح؟ قال: حدثتني أمُّ صالح، عن صَفيَّة بنت شَيْبة، عن أم حَبيبة قالت: قال رسول الله ﷺ:"كلامُ ابن آدم عليه لا له، إلَّا أمرًا بمعروف، أو نهيًا (2) عن مُنكَر، أو ذِكرَ الله" (1) . قال محمد بن يزيد: قلتُ: ما أَشدَّ هذا! فقال سفيان: وما شدَّةُ هذا الحديث، إنما جاءت به امرأةٌ عن امرأةٍ عن امرأةٍ، هذا في كتاب الله ﷿ الذي أُرسِلَ به نبيُّكم ﷺ، فقال: ﴿يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾ [النبأ: 38] ، وقال: ﴿وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾، وقال: ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ﴾ الآية [النساء: 114] . [79 - تفسير سورة النازعات] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن یزید بن خنیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سفیان ثوری رحمہ اللہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس موجود تھے کہ سعید بن حسان مخزومی ان کے پاس آئے، جو ہماری جماعت کے وعظ گو تھے اور ماہِ رمضان میں ہماری امامت کیا کرتے تھے، سفیان ثوری نے ان سے پوچھا: ”وہ حدیث کیسی ہے جو تم نے مجھے ام صالح کے حوالے سے سنائی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: مجھے ام صالح نے صفیہ بنت شیبہ سے اور انہوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کی ہر بات اس کے لیے نقصان دہ ہے نہ کہ فائدہ مند، سوائے نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے یا اللہ عزوجل کا ذکر کرنے کے۔“ محمد بن یزید کہتے ہیں: میں نے (یہ سن کر) کہا: ”یہ تو بہت ہی سخت وعید ہے!“ اس پر سفیان ثوری نے فرمایا: ”اس حدیث میں سختی کی کیا بات ہے؟ اسے تو ایک خاتون نے دوسری خاتون سے اور انہوں نے تیسری خاتون سے روایت کیا ہے، جبکہ یہی حقیقت تو اللہ عزوجل کی اس کتاب میں بھی موجود ہے جس کے ساتھ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾ ”جس دن روح (جبرائیل علیہ السلام) اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، وہ بات نہ کر سکیں گے سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔“ [سورة النبأ: 38] ، اور فرمایا: ﴿وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ ”زمانے کی قسم، بیشک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور صبر کی تلقین کی۔“ [سورة العصر: 1-3] ، اور فرمایا: ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ﴾ ”ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں سوائے اس کے جو صدقہ دینے، نیکی کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے۔“ [سورة النساء: 114] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أم صالح.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف