🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

409. تَفْسِيرُ سُورَةِ {وَالضُّحَى} - أُرِيَ رَسُولُ اللهِ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِهِ مِنْ بَعْدِهِ
تفسیر سورہ والضحیٰ - رسول اللہ ﷺ کو ان فتوحات اور نعمتوں کا دکھایا جانا جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت پر کشادہ کی جائیں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3987
حدثني أبو عمرو محمد بن أحمد (1) بن إسحاق العَدْل، حدَّثنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدَّثنا عصام بن رَوَّاد بن الجرَّاح، حدثني أبي، حدَّثنا الأوزاعي، عن إسماعيل بن عُبيد الله، قال: حدثني علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه قال: أُرِيَ رسولُ الله ﷺ ما يُفتَح على أمَّتِه من بعده فسُرَّ بذلك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى﴾ إلى قوله: ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾، قال: فأعطاه ألفَ قصرٍ في الجنة من لُؤلُؤٍ ترابُه المسكُ، في كل قصرٍ منها ما يَنبَغي له (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3943 - تفرد به عصام بن رواد عن أبيه وقد ضعف
علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ فتوحات دکھائی گئیں جو آپ کے بعد آپ کی امت کو حاصل ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خوش ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى﴾ یہاں تک کہ یہ فرمایا: ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾ [سورۃ الضحی: 1-2، 5] انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں موتیوں کے ایک ہزار محلات عطا فرمائے، جن کی مٹی کستوری ہے، اور ہر محل میں وہ سب کچھ ہے جو اس کے شایانِ شان ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عصام بن روّاد وأبيه، وقد توبعا، وذَهَلَ الذهبي ﵀ في "تلخيصه" فقال: تفرَّد به عصام بن رواد عن أبيه وقد ضُعِّف. إسماعيل بن عبيد الله: هو ابن أبي المهاجر المخزومي.» [ترقيم الرساله 3987] [ترقيم الشركة 3965] [ترقيم العلميه 3943]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عصام بن روّاد وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
حدَّثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي إملاءً، حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا عبد الله بن الجرَّاح، حدَّثنا حماد بن زيد، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"سألت الله مسألةً وددتُ أني لم أكن سألتُه، ذَكَرتُ رسلَ ربي فقلت: سخَّرت لسليمانَ الريحَ، وكلَّمتَ موسى، فقال ﵎: ألم أَجِدُك يتيمًا فآويتُك، وضالًا فهَدَيتُك، وعائلًا فأَغنيتُك؟" قال:"فقلت: نَعَم، فَوَدِدتُ أن لم أسأَلْه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3944 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ سے ایک ایسا سوال کیا کہ کاش میں نے وہ سوال نہ کیا ہوتا۔ میں نے اپنے رب کے رسولوں کا ذکر کیا اور عرض کیا: تو نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، اور تو نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا پھر تجھے ٹھکانہ دیا، اور تجھے بھٹکا ہوا پایا تو تجھے راستہ دکھایا، اور تجھے تنگدست پایا تو غنی کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: ہاں (اے میرے رب!)۔ پس میں نے تمنا کی کہ کاش میں نے اس سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الله بن الجراح، وقد توبع. ورواية حماد بن زيد عن عطاء قبل اختلاطه.» [ترقيم الرساله 3988] [ترقيم الشركة 3966] [ترقيم العلميه 3944]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عبد الله بن الجراح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں