🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
409. تفسير سورة { والضحى } - أري رسول الله ما يفتح على أمته من بعده
تفسیر سورہ والضحیٰ - رسول اللہ ﷺ کو ان فتوحات اور نعمتوں کا دکھایا جانا جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت پر کشادہ کی جائیں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
حدَّثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي إملاءً، حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا عبد الله بن الجرَّاح، حدَّثنا حماد بن زيد، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"سألت الله مسألةً وددتُ أني لم أكن سألتُه، ذَكَرتُ رسلَ ربي فقلت: سخَّرت لسليمانَ الريحَ، وكلَّمتَ موسى، فقال ﵎: ألم أَجِدُك يتيمًا فآويتُك، وضالًا فهَدَيتُك، وعائلًا فأَغنيتُك؟" قال:"فقلت: نَعَم، فَوَدِدتُ أن لم أسأَلْه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3944 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک سوال پوچھا تھا، کاش کہ میں نے وہ سوال نہ پوچھا ہوتا، میں نے اللہ کے رسولوں کا ذکر کیا، پھر میں نے کہا: اے میرے رب! تو نے سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کیا اور تو نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں یتیم پایا تو تمہیں ٹھکانا دیا اور تمہیں (اپنی محبت میں) گم پایا تو تمہیں راہ دی اور تمہیں بے سروسامان پایا تو تمہیں غنی کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں تو مجھے یہ خواہش ہوئی کہ کاش ہم نے یہ سوال نہ پوچھا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3988]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عبد الله بن الجراح، وقد توبع. ورواية حماد بن زيد عن عطاء قبل اختلاطه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن جراح کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ اور حماد بن زید کی عطاء سے روایت ان کے اختلاط سے پہلے کی ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" (3966) و (3967)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" - كما في "تفسير ابن كثير" 8/ 452 - والطبراني في "الكبير" (12289)، و "الأوسط" (3651)، والثعلبي في "تفسيره" 10/ 225، والبيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 62 - 63، والواحدي في "أسباب النزول" (862)، والبغوي في "تفسيره" 8/ 455 - 456 من طرق عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد قال فيه بعضهم عن حماد بن زيد: أظنه عن سعيد بن جبير عن ابن عبَّاس. وزاد فيه بعضهم: "ألم أشرح لك صدرك؟ ألم أرفع لك ذكرَك؟ ".
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی نے "مشکل الآثار" (3966، 3967)، ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر (جیسا کہ "تفسیر ابن کثیر" 8/452 میں ہے)، طبرانی نے "الکبیر" (12289) اور "الاوسط" (3651)، ثعلبی نے تفسیر (10/225)، بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (7/62-63)، واحدی نے "اسباب النزول" (862) اور بغوی نے تفسیر (8/455-456) میں حماد بن زید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بعض نے حماد بن زید سے روایت کرتے ہوئے کہا: "میرا گمان ہے کہ یہ سعید بن جبیر عن ابن عباس سے ہے"۔ اور بعض نے اس میں اضافہ کیا: "کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا؟ کیا ہم نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟"۔