المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
422. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَارِعَةِ
تفسیر سورہ القارعہ
حدیث نمبر: 4012
أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا المبارَك بن فَضَالة، عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا مات العبدُ تَلقَّى روحَه أرواحُ المؤمنين فتقولُ له: ما فعل فلانٌ؟ فإذا قال: مات قالوا: ذُهِبَ به إلى أمِّه الهاوية، فبِئسَتِ الأمُّ، وبِئسَتِ المربِّيةُ" (1) .
هذا حديث مُرسَل صحيح الإسناد، فإني لم أجِدْ لهذه السورة تفسيرًا على شرط الكتاب، فأخرجتُه إذ لم أستجِزْ إخلاءَه من حديث (2) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3968 - مرسل
هذا حديث مُرسَل صحيح الإسناد، فإني لم أجِدْ لهذه السورة تفسيرًا على شرط الكتاب، فأخرجتُه إذ لم أستجِزْ إخلاءَه من حديث (2) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3968 - مرسل
حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ مر جاتا ہے تو مومنوں کی روحیں اس کی روح سے ملتی ہیں اور اس سے پوچھتی ہیں: فلاں نے کیا کیا (وہ کیسا ہے)؟ پس اگر وہ کہے کہ وہ تو مر چکا ہے، تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کی ماں (جہنم کے گڑھے) ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے، پس وہ کتنی بری ماں ہے اور کتنی بری پرورش کرنے والی ہے۔“
یہ حدیث مرسل ہے مگر اس کی سند صحیح ہے، مجھے اس سورت کی تفسیر میں اس کتاب کی شرط کے مطابق کوئی حدیث نہیں ملی، اس لیے میں نے اسے روایت کر دیا کیونکہ میں نے اسے حدیث سے خالی چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4012]
یہ حدیث مرسل ہے مگر اس کی سند صحیح ہے، مجھے اس سورت کی تفسیر میں اس کتاب کی شرط کے مطابق کوئی حدیث نہیں ملی، اس لیے میں نے اسے روایت کر دیا کیونکہ میں نے اسے حدیث سے خالی چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، وشيخ المصنف فيه ضعف لكنه لم ينفرد به، ومبارك بن فضالة صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات. الحسن: هو البصري، من أئمة التابعين.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره