المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. شَهَادَةُ نَبِيِّنَا وَأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِبْلَاغِ نُوحٍ قَوْمَهُ
قیامت کے دن سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم تک پیغام پہنچانے پر ہمارے نبی ﷺ اور ان کی امت کی گواہی
حدیث نمبر: 4056
أخبرنا الحَسَن بن محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنَبِّه، قال: وذَكَرَ الحسن بن أبي الحسن عن سبعة رهطٍ شهدوا بدرًا، قال وهب: وقد حدثني عبد الله بن عبّاس، كلُّهم رفعوا الحديث إلى رسول الله ﷺ:"إنَّ الله يدعو نوحًا وقومه يوم القيامة أول الناسِ، فيقول: ماذا أجبتُم نوحًا؟ فيقولون: ما دعانا وما بَلغَنا ولا نَصَحَنا، ولا أمرنا ولا نَهانا، فيقول نوحٌ: دعوتُهم يا رب دعاءً فاشيًا في الأولين والآخرين، أمّةً بعد أمةٍ، حتى انتهى إلى خاتم النبيين أحمد، فانتسَخَه وقرأه وآمَنَ به وصدقه، فيقولُ الله للملائكة: ادعوا أحمدَ وأُمته، فيأتي رسولُ الله ﷺ وأمتُه يَسعى نُورُهم بين أيديهم، فيقول نوح لمحمدٍ وأمته: هل تعلمون أني بلغتُ قومي الرسالة، واجتهدتُ لهم بالنصيحة، وجَهَدتُ أن أستنقذهم من النار سِرًا وجهارًا، فلم يَزِدْهُم دُعائي إلا فرارًا؟ فيقول رسول الله وأمته: فإنا نشهد بما نَشَدْتَنا به أنك في جميع ما قلت من الصادقين، فيقول قوم نوح: وأنَّى علمت هذا يا أحمد أنتَ وأمتك، ونحنُ أول الأمم وأنتَ وأمتك آخرُ الأمم؟! فيقول رسول الله ﷺ: بسم الله الرحمن الرحيم: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرَ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [نوح:1] قرأ السورة حتى ختمها، فإذا ختمها قالت أمتُه: نشهدُ ﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [آل عمران: 62] ، فيقول الله ﷿ عند ذلك: امتازوا اليوم أيها المُجرمون، فهم أولُ مَن يَمتاز في النار" (1) . [ذكر إدريس النبي ﷺ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4012 - إسناده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4012 - إسناده واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام اور آپ کی امت کو بلائے گا اور (آپ کی امت سے) فرمائے گا: تم نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کیا جواب دیا تھا؟ وہ کہیں گے: انہوں (سیدنا نوح علیہ السلام) نے نہ ہمیں کبھی دعوت دی نہ (تیرے احکام) ہم تک پہنچائے، نہ کبھی ہمیں نصیحت کی نہ ہمیں (کبھی بھلائی کا) حکم دیا اور نہ (کبھی برائی سے) منع کیا۔ سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں نے ان کو دعوت دی، ایسی دعوت جو اولین و آخرین سب کو شامل تھی، پشت در پشت ان کو دعوت دی حتیٰ کہ یہ سلسلہ خاتم النبیین احمد تک پہنچا۔ انہوں نے اس کو منسوح کیا اور اس کو پڑھا اور اس کا یقین کیا اور اس کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کو بلاؤ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت اس شان سے وہاں آئیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا۔ سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت سے کہیں گے: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور ان کو سمجھانے کی ازحد کوشش کی تھی اور سراً و علانیۃً ان کو دوزخ سے بچانے کی کوشش کی تھی لیکن میری دعوت پر یہ اور بھی دور بھاگتے رہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کہیں گے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ سب کچھ سچ ہے۔ اس پر سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم کہے گی: اے احمد! آپ کو اور آپ کی امت کو اس سب کا کیا معلوم؟ ہم سب سے پہلی امت ہیں جبکہ آپ اور آپ کی امت سب سے آخر میں آئے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورہ نوح پڑھیں گے۔ جب آپ سورۃ ختم فرمائیں گے تو آپ کی امت کہے گی: ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ سچ واقعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی غالب حکمت والا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ تو یہ سب سے پہلا گروہ ہو گا جو الگ ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4056]