المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا قَبْلَ مُوسَى
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فرشتۂ موت لوگوں کے پاس ظاہر ہو کر آتا تھا
حدیث نمبر: 4152
حدثنا علي بن حمشاذ ومحمد بن صالح، قالا: حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عمار بن أبي عمار، قال: سمعتُ أبا هريرةَ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ مَلَكَ الموت كان يأتي الناسَ عِيانًا، فأتى موسى بنَ عِمران، فلَطَمَهُ موسى فَفَقأ عينَه، فعَرَجَ مَلَكُ الموتِ، فقال: يا رب، عبدُك موسى فَعَلَ بي كذا وكذا، ولولا كرامتُه عليك لَشَقَقْتُ عليه، فقال الله: ائتِ عبدي موسى فخَيِّرْه بين أن يَضَعَ يدَه على مَتْنِ ثَور، فله بكل شَعرةٍ وارَتْها كفُّه سنةً، وبين أن يموتَ الآن، فأتاه فخَيَّرَه، فقال موسى: فما بعدَ ذلك؟ قال: الموتُ، قال: فالآنَ إذًا، فشَمَّه شَمَّةً فقبض رُوحَه، وردَّ الله على ملك الموت (2) بَصَرَه، فكان بعد ذلك يأتي الناسَ في خُفْيةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة هارون بن عِمران، فإنه مات قبل موسى ﵉
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة هارون بن عِمران، فإنه مات قبل موسى ﵉
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت کا فرشتہ لوگوں کے پاس ظاہری صورت میں (کھلم کھلا) آیا کرتا تھا، چنانچہ وہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس آیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے ایک تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ موت کا فرشتہ واپس (آسمان کی طرف) چڑھ گیا اور عرض کیا: اے میرے رب! تیرے بندے موسیٰ نے میرے ساتھ ایسا ایسا سلوک کیا ہے، اگر تیری بارگاہ میں اس کا مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے موسیٰ کے پاس جاؤ اور اسے اختیار دو کہ یا تو وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھ دے، تو جتنے بالوں کو اس کا ہاتھ چھپائے گا اسے ہر بال کے بدلے ایک سال کی زندگی مل جائے گی، یا پھر وہ ابھی موت قبول کر لے۔ فرشتہ ان کے پاس آیا اور انہیں یہ اختیار دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ فرشتے نے کہا: موت۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تو پھر ابھی (موت حاضر ہے)۔ چنانچہ فرشتے نے انہیں ایک مرتبہ سونگھا اور ان کی روح قبض کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتے کی بینائی واپس لوٹا دی، پس اس کے بعد سے وہ لوگوں کے پاس پوشیدہ طور پر آنے لگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام کی وفات کا تذکرہ، بلاشبہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4152]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام کی وفات کا تذکرہ، بلاشبہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد روى هذا الخبر بنحوه عن أبي هريرة أيضًا همّام بن مُنبِّه وطاووس اليماني، ولهذا صحَّحه الإمامُ أحمد فيما نقله عنه أبو يعلى الفراء في "إبطال التأويلات" (410) و (411)، وصحَّحه أيضًا محمد بن يحيى الذُّهلي فيما أسنده عنه أبو إسحاق الثعلبي في "تفسيره" 4/ 46، وكذلك صحَّحه غير واحدٍ ممن جاء بعدهما.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح