🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات و اوصاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4211
حدّثَناه أبو الحسن علي بن الفضل بن إدريس السامِرِيّ ببغداد، حدثنا الحسن بن عَرَفة بن يزيد العَبْدي، حدثني يحيى بن سعيد السَّعْدي البصري، حدثنا عبد الملك بن جُريج عن عطاءٍ، عن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبي ذَرٍّ قال: دخلتُ على رسول الله ﷺ وهو في المسجد، فاغتنَمْتُ خَلْوتَه، فقال لي:"يا أبا ذَرٍّ، إنَّ للمسجدِ تحيةً" قلت: وما تحيتُه يا رسول الله؟ قال"ركعتان" فركَعْتُهما، ثم التفتُّ إليه فقلتُ: يا رسول الله، إنك أمرتَني بالصلاةِ، فما الصلاةُ؟ قال:"خَيرُ موضوعٍ، فمن شاء أقَلَّ، ومن شاء أكثَرَ" قلت: يا رسول الله، أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ قال:"الإيمانُ بالله"، ثم ذكر الحديثَ، إلى أن قال: فقلتُ: يا رسول الله، كم النبيُّون؟ قال:"مئةُ ألفِ نبيٍّ وأربعةٌ وعشرون ألفَ نبيٍّ" قلت: كم المرسَلُون منهم؟ قال:"ثلاثُ مئة وثلاثَ عشرةَ"، وذكر باقيَ الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4166 - السعدي ليس بثقة
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کی تنہائی کے موقع کو غنیمت جانا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! بے شک مسجد کا ایک تحیہ (سلامی) ہے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا تحیہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پس میں نے وہ دو رکعتیں ادا کیں، پھر میں آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے، تو نماز کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز ایک بہترین موضوع ہے، اب جو چاہے (نفل کے ذریعے) اس میں کمی کرے اور جو چاہے زیادتی کرے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا پھر انہوں نے حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی کل تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں نے عرض کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین سو تیرہ اور انہوں نے باقی حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سعيد السَّعْدي، فقد قال عنه الذهبي في "تلخيصه": ليس بثقة. وأنكر حديثَه هذا ابن عدي والذهبيُّ في "تاريخ الإسلام" 5/ 478، وقال العقيلي: لا يتابع عليه. وقال ابن حبان: لا يحلُّ الاحتجاج به إذا انفرد.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سعيد السَّعْدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں