المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. إِخْبَارُ الْيَهُودِ بِوِلَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر دینا، یہودی کا مہرِ نبوت دیکھ کر بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4222
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو غسان محمد بن يحيى الكِنَاني، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، قال: كان هشامُ بن عُرْوة يُحدِّث عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان يهوديٌّ قد سَكَنَ مكةَ يَتَّجِرُ بها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلد فيها رسولُ الله ﷺ، قال في مجلس من قريش: يا معشرَ قريش، هل وُلِد فيكم الليلةَ مولودٌ؟ فقال القوم: والله ما نَعلمُه، قال: الله أكبر، أمّا إذا أخطأَكُم فلا بأس، انظروا واحفَظُوا ما أقولُ لكم، وُلِد هذه الليلةَ نبيُّ هذه الأمةِ الأخيرةِ، بين كتفَيه علامةٌ فيها شَعَرات مُتواتِرات، كأنهن عَرْفُ فَرَس، لا يَرضَعُ ليلتَين، وذلك أنَّ عِفْريتًا من الجنّ أدخَلَ إصبَعَيه في فَمِه فمنعَه الرَّضاع، فتَصدَّع القومُ من مَجلِسهم وهم مُتعجِّبون من قولِه وحديثِه، فلما صارُوا إلى منازلِهم أخبَرَ كلُّ إنسان منهم أهلَه، فقالوا: قد وُلِد لعبد الله بن عبد المطلب غلامٌ سَمَّوه محمدًا، فالتقى القومُ فقالوا: هل سمعتُم حديثَ اليهوديّ وهل بَلَغَكم مَولِدُ هذا الغُلامِ، فانطَلقُوا حتى جاؤوا اليهوديَّ فأخبرُوه الخَبَرَ، قال: فاذهبُوا معي حتى أَنظُرَ إليه، فخرجُوا حتى أدخَلُوه على آمنةَ، فقال: أَخرجي إلينا ابنَك، فأخرجَتْه، وكشَفُوا له عن ظَهْرِه، فرأى تلك الشامةَ، فوقع اليهودي مَغشيًّا عليه، فلما أفاقَ قالوا: وَيلَكَ، ما لكَ؟ قال: ذهبتْ واللهِ النبوةُ من بني إسرائيل، فَرِحتُم به يا معشرَ قُريش، أما واللهِ لَيَسْطُوَنَّ بكُم سَطُوةً يَخرُج خَبرُها من المَشرِق والمَغرب. وكان في النَّفَر يومئذ الذينَ قال لهم اليهوديُّ ما قال؛ هشام والوليد بن المغيرة ومُسافِر بن أبي عمرو وعُبيدة بن الحارث بن عبد المُطّلب، وعُتبةُ بن رَبيعة شابٌّ فوقَ المُحتَلِم، في نَفَرٍ من بني مَنَافٍ وغيرهم من قُريش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تَواتَرتِ الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ وُلد مَختُونًا مَسرُورًا (2) ، ووُلِد رسولُ الله ﷺ في الدار التي في الزُّقَاق المعروف بزُقاق المدكَّك بمكة، وقد صليتُ فيها، وهي الدارُ التي كانت بعد مُهاجَرِ رسول الله ﷺ في يد عَقِيل بن أبي طالب، ثم في أيدي ولدِه بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4177 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا نافيا لصحته
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تَواتَرتِ الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ وُلد مَختُونًا مَسرُورًا (2) ، ووُلِد رسولُ الله ﷺ في الدار التي في الزُّقَاق المعروف بزُقاق المدكَّك بمكة، وقد صليتُ فيها، وهي الدارُ التي كانت بعد مُهاجَرِ رسول الله ﷺ في يد عَقِيل بن أبي طالب، ثم في أيدي ولدِه بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4177 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا نافيا لصحته
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک یہودی مکہ میں تجارت کی غرض سے رہا کرتا تھا۔ جب وہ رات آئی، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، اس نے قریش کی مجلس میں کہا: اے قریشیو! تم میں سے کسی کے ہاں آج کی رات کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ خدا کی قسم! ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا: اللہ اکبر۔ بہرحال ایک موقع تو تم ضائع کر بیٹھے ہو لیکن اب میں جو کچھ تمہیں بتا رہا ہوں اس کو یاد کر لو۔ اس رات اس آخری امت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک نشانی ہے، جس میں گھنے لمبے بال ہیں جیسا کہ گھوڑے کی کلغی ہوتی ہے، وہ دو راتیں دودھ نہیں پئے گا کیونکہ ایک جن نے اپنی دو انگلیاں اس کے منہ میں ڈال رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پی سکتا۔ لوگ اس مجلس سے نکلے تو اس یہودی کی گفتگو اور جو اس نے خبر سنائی اس پر بہت حیران ہو رہے تھے۔ جب یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے تو سب نے اپنے گھر والوں کو یہ خبر سنائی۔ تو انہوں نے ان کو بتایا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، اس کا نام انہوں نے ” محمد “ رکھا ہے۔ پھر لوگ ایک دوسرے سے ملے اور بولے: کیا تم نے یہودی کی بات سنی ہے اور کیا تمہیں اس نومولود کی ولادت کا پتہ چلا ہے؟ یہ سب لوگ یہودی کے پاس آئے اور اس کو بتایا (کہ وہ بچہ پیدا ہو چکا ہے) اس نے کہا: مجھے بھی وہاں لے چلو، میں بھی اس کی زیارت کرنا چاہتا ہوں، تو لوگ اس کو ہمراہ لے کر سیدنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر جا پہنچے اور سیدنا آمنہ سے کہا: یہ بچہ ہمیں دکھائیں۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سامنے کر دیا، انہوں نے آپ کی پشت مبارک سے کپڑا ہٹایا تو اس نے مہر نبوت کی زیارت کر لی تو وہ یہودی غش کھا کر گر گیا۔ جب اس کو افاقہ ہوا، تو لوگوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! بنی اسرائیل کے ہاتھ سے نبوت جاتی رہی۔ اے قریشیو! تم پر کرم ہو گیا ہے، تم خوشیاں مناؤ۔ خدا کی قسم! وہ تمہیں ایسا غلبہ دلائے گا جس کی خبریں مشرق سے مغرب تک جائیں گی۔ اس دن یہودی کی گفتگو سننے والوں میں یہ لوگ بھی شامل تھے ” ہشام بن ولید بن مغیرہ، مسافر ابن ابی عمرو، عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب اس وقت عتبہ بن ربیعہ، بنی عبد مناف میں سے نوجوان لڑکا تھا اور قریش کے دیگر بہت سارے لوگ موجود تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ نوٹ: اس سلسلہ میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ختنہ شدہ مسکراتے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ کی اس گلی والے گھر میں ہوئی جو گلی ” زقاق المدکل “ کے نام سے مشہور تھی۔ مجھے اس گھر میں نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہے، یہ وہی گھر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے کے بعد عقیل ابن ابی طالب کے قبضہ میں رہا اور اس کے بعد اس کی اولاد کے قبضے میں رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4222]
حدیث نمبر: 4223
كما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا ابن وهب، أخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شِهَاب، أخبرني علي بن الحسين، أنَّ عمرو بن عثمان أخبره عن أسامة بن زيد، أنه قال: يا رسول الله، أتنزِلُ في دارِك بمكةَ؟ قال:"وهل تَرَكَ لنا عَقِيلٌ من رِباعٍ أو دُورٍ؟"، وكان عَقِيلٌ وَرِثَ أبا طالبٍ، ولم يَرثْه عليٌّ ولا جعفرٌ لأنهما كانا مسلمَين (1) . قد احتجَّ الشيخان بهذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4178 - أخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4178 - أخرجاه
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اپنے مکہ والے گھر میں ٹھہریں گے؟ کیا عقیل اس کا کوئی کمرہ ہمارے لئے چھوڑے گا؟ یہ عقیل کو ابوطالب کی وراثت سے ملا تھا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو ابوطالب کی وراثت نہیں ملی تھی کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4223]