🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. إِخْبَارُ الْيَهُودِ بِوِلَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر دینا، یہودی کا مہرِ نبوت دیکھ کر بے ہوش ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4222
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو غسان محمد بن يحيى الكِنَاني، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، قال: كان هشامُ بن عُرْوة يُحدِّث عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان يهوديٌّ قد سَكَنَ مكةَ يَتَّجِرُ بها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلد فيها رسولُ الله ﷺ، قال في مجلس من قريش: يا معشرَ قريش، هل وُلِد فيكم الليلةَ مولودٌ؟ فقال القوم: والله ما نَعلمُه، قال: الله أكبر، أمّا إذا أخطأَكُم فلا بأس، انظروا واحفَظُوا ما أقولُ لكم، وُلِد هذه الليلةَ نبيُّ هذه الأمةِ الأخيرةِ، بين كتفَيه علامةٌ فيها شَعَرات مُتواتِرات، كأنهن عَرْفُ فَرَس، لا يَرضَعُ ليلتَين، وذلك أنَّ عِفْريتًا من الجنّ أدخَلَ إصبَعَيه في فَمِه فمنعَه الرَّضاع، فتَصدَّع القومُ من مَجلِسهم وهم مُتعجِّبون من قولِه وحديثِه، فلما صارُوا إلى منازلِهم أخبَرَ كلُّ إنسان منهم أهلَه، فقالوا: قد وُلِد لعبد الله بن عبد المطلب غلامٌ سَمَّوه محمدًا، فالتقى القومُ فقالوا: هل سمعتُم حديثَ اليهوديّ وهل بَلَغَكم مَولِدُ هذا الغُلامِ، فانطَلقُوا حتى جاؤوا اليهوديَّ فأخبرُوه الخَبَرَ، قال: فاذهبُوا معي حتى أَنظُرَ إليه، فخرجُوا حتى أدخَلُوه على آمنةَ، فقال: أَخرجي إلينا ابنَك، فأخرجَتْه، وكشَفُوا له عن ظَهْرِه، فرأى تلك الشامةَ، فوقع اليهودي مَغشيًّا عليه، فلما أفاقَ قالوا: وَيلَكَ، ما لكَ؟ قال: ذهبتْ واللهِ النبوةُ من بني إسرائيل، فَرِحتُم به يا معشرَ قُريش، أما واللهِ لَيَسْطُوَنَّ بكُم سَطُوةً يَخرُج خَبرُها من المَشرِق والمَغرب. وكان في النَّفَر يومئذ الذينَ قال لهم اليهوديُّ ما قال؛ هشام والوليد بن المغيرة ومُسافِر بن أبي عمرو وعُبيدة بن الحارث بن عبد المُطّلب، وعُتبةُ بن رَبيعة شابٌّ فوقَ المُحتَلِم، في نَفَرٍ من بني مَنَافٍ وغيرهم من قُريش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تَواتَرتِ الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ وُلد مَختُونًا مَسرُورًا (2) ، ووُلِد رسولُ الله ﷺ في الدار التي في الزُّقَاق المعروف بزُقاق المدكَّك بمكة، وقد صليتُ فيها، وهي الدارُ التي كانت بعد مُهاجَرِ رسول الله ﷺ في يد عَقِيل بن أبي طالب، ثم في أيدي ولدِه بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4177 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا نافيا لصحته
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مکہ میں ایک یہودی رہتا تھا جو وہاں تجارت کرتا تھا، جب وہ رات آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اس نے قریش کی ایک مجلس میں کہا: اے گروہِ قریش! کیا آج رات تمہارے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں علم نہیں، اس نے کہا: اللہ اکبر! اگر تم سے یہ خبر رہ گئی ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن جو میں کہہ رہا ہوں اسے دیکھو اور یاد رکھو، آج کی رات اس آخری امت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک علامت ہے جس میں مسلسل بال ہیں جیسے گھوڑے کی ایال کے بال ہوتے ہیں، وہ دو راتوں تک دودھ نہیں پیے گا کیونکہ جنات کے ایک عفرتی نے اس کے منہ میں اپنی انگلیاں ڈال کر اسے دودھ پینے سے روک دیا ہے، پس وہ لوگ مجلس سے متفرق ہوئے اور اس کی گفتگو پر حیران تھے، جب وہ اپنے گھروں کو پہنچے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے گھر والوں کو خبر دی، تو گھر والوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جس کا نام انہوں نے محمد رکھا ہے، پھر وہ لوگ آپس میں ملے اور کہا کہ کیا تم نے اس یہودی کی بات سنی تھی اور کیا تمہیں اس بچے کی ولادت کی خبر ملی ہے؟ پھر وہ روانہ ہوئے اور اس یہودی کے پاس آ کر اسے خبر دی، اس نے کہا: میرے ساتھ چلو تاکہ میں اسے دیکھ لوں، چنانچہ وہ نکلے اور اسے سیدہ آمنہ کے پاس لے گئے، اس نے کہا: اپنا بیٹا ہمیں دکھائیے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکالا، اور لوگوں نے آپ کی پیٹھ سے کپڑا ہٹایا تو اس نے وہ مہرِ نبوت دیکھ لی، یہ دیکھتے ہی وہ یہودی بے ہوش ہو کر گر پڑا، جب اسے ہوش آیا تو لوگوں نے کہا: تیرا برا ہو، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی، اے گروہِ قریش! تم اس پر خوش ہو رہے ہو، اللہ کی قسم! وہ تم پر ایسی گرفت فرمائیں گے جس کی خبر مشرق و مغرب تک پہنچ جائے گی۔ اور ان لوگوں میں جنہیں یہودی نے یہ بات کہی تھی ہشام، ولید بن مغیرہ، مسافر بن ابی عمرو، عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب اور عتبہ بن ربیعہ جو اس وقت نو عمر نوجوان تھے، شامل تھے جبکہ بنو مناف اور قریش کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اخبار تواتر سے ثابت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ختنے شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ کے اس مکان میں ہوئی تھی جو زقاق المدکک کے نام سے مشہور گلی میں واقع ہے، اور میں نے اس میں نماز پڑھی ہے، یہ وہی مکان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد عقیل بن ابی طالب کے قبضے میں رہا اور پھر ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4222]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما أفاده الذهبي في "تلخيصه"، متعقِّبًا الحاكم في تصحيحه. قلنا: وذلك لجهالة يحيى الكناني - وهو ابن علي بن عبد الحميد - ومع ذلك حسَّن إسنادَه ابن حجر في "الفتح" 10/ 443، ولم يتابع أحدٌ من أصحاب محمد بن إسحاق الكنانيَّ هذا!» [ترقيم الرساله 4222] [ترقيم الشركة 4199] [ترقيم العلميه 4177]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف كما أفاده الذهبي في "تلخيصه"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4223
كما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا ابن وهب، أخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شِهَاب، أخبرني علي بن الحسين، أنَّ عمرو بن عثمان أخبره عن أسامة بن زيد، أنه قال: يا رسول الله، أتنزِلُ في دارِك بمكةَ؟ قال:"وهل تَرَكَ لنا عَقِيلٌ من رِباعٍ أو دُورٍ؟"، وكان عَقِيلٌ وَرِثَ أبا طالبٍ، ولم يَرثْه عليٌّ ولا جعفرٌ لأنهما كانا مسلمَين (1) . قد احتجَّ الشيخان بهذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4178 - أخرجاه
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟» کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا مکان چھوڑا ہے؟ اور عقیل، ابو طالب کے وارث بنے تھے جبکہ علی اور جعفر رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں بنے تھے کیونکہ وہ دونوں مسلمان ہو چکے تھے۔
شیخین نے اس حدیث سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 4223] [ترقيم الشركة 4200] [ترقيم العلميه 4178]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں