🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ذِكْرُ أَخْبَارِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و واقعات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4219
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أصحاب رسول الله ﷺ، أنهم قالوا: يا رسول الله، أخبِرْنا عن نفسك، فقال:"دعوةُ أبي إبراهيمَ، وبُشرى عيسى، ورأتْ أُمِّي حين حَمَلَت أنه خَرَج منها نُورٌ أضاءتْ له بُصْرى" (1) . وبُصرى من أرض الشام. قال الحاكم: خالد بن مَعْدان من كِبار (1) التابعين، صَحِبَ معاذَ بنَ جَبَل (2) فمَن بَعدَه من الصحابة، فإذا أسندَ حديثًا عن الصحابة، فإنه صحيح الإسناد وإن ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4174 - صحيح
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اپنی ذات کے بارے میں بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں، اور میری والدہ نے میرے حمل کے دوران دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا جس سے بصریٰ کے محلات روشن ہو گئے اور بصریٰ شام کی سرزمین میں ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ خالد بن معدان کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہے، چنانچہ جب وہ صحابہ سے حدیث کی سند بیان کریں تو وہ صحیح الاسناد ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح عن ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار - روايته عن ثور عن خالد بن معدان مرسلًا، كذلك رواه زياد بن عبد الله البكائي كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 166، وسلمة بن الفضل الأبرش عند الطبري في ...» [ترقيم الرساله 4219] [ترقيم الشركة 4196] [ترقيم العلميه 4174]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4220
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قلت لأبي اليَمَان: حدَّثكَ أبو بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن سعيد بن سُوَيد، عن العِرْباض بن سارِيَة السُّلمي، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"إني عندَ الله في أوّل الكتاب لَخاتَمُ النبيين، وإنّ آدمَ لمُنْجَدِلٌ في طِينتِه، وسأنبِّئكم بتأويل ذلك: دعوةُ أبي إبراهيم، وبِشارةُ عيسى قومَه، ورُؤْيا أمي التي رأَتْ أنه خرج منها نُورٌ أضاءت له قصورُ الشام" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں اللہ کے ہاں ام الکتاب (لوحِ محفوظ) میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے، اور میں تمہیں اس کی حقیقت بتاتا ہوں: میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کو دی گئی بشارت، اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور پہلی حدیث کے لیے شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4220]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم الغَسّاني، وقد قصَّر في إسناده كما قال البيهقي في "دلائل النبوة" 1/ 83، فلم يذكر فيه عبدَ الأعلى بنَ هلال بين سعيد بن سُويد وبين العرباض، وذكره معاوية بن صالح الثقة كما تقدم برقم (3608)، وعبد الأعلى بن هلال ...» [ترقيم الرساله 4220] [ترقيم الشركة 4197] [ترقيم العلميه 4175]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4221
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن مَرْثَد الطَّبَراني، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عِمران، حدثنا عبد الله بن جعفر، عن أبي عَون، عن المِسْوَر بن مَخْرَمة، عن ابن عبّاس، عن أبيه، قال: قال عبدُ المُطَّلب: قَدِمْنا اليمنَ في رحلةِ الشتاء، فنزلتُ على حَبْرٍ من اليهود، فقال لي رجل من أهل الزَّبُور: يا عبدَ المُطَّلب، أتأذَنُ لي أن أنظُرَ إلى بدنِك ما لم يكن عَورةٌ، قال: ففتح إحدى مَنْخِرَيَّ فنظر فيه، ثم نظر في الأخرى، فقال: أشهدُ أنَّ في إحدى يَدَيك مُلْكًا، وفي الأخرى نبوةً، وأرى ذلك في بني زُهْرةَ، فكيف ذلك؟ فقلت: لا أدري، قال: هل لك من شاعَةٍ، قال: قلتُ: وما الشاعةُ؟ قال: زوجةٌ، قلت: أما اليومَ فلا، قال: إذا قَدِمْتَ فتَزَوَّجْ فيهن، فرجع عبدُ المُطَّلب إلى مكة، فتزوَّج هالة بنتَ وهبِ بن عبد مَنافٍ، فوَلَدَت له حمزةَ وصفيّةَ، وتزوج عبدُ الله بن عبد المطّلب آمنةَ بنت وهبٍ، فولَدَت رسولَ الله ﷺ، فقالت قريشٌ حين تَزوَّج عبدُ الله آمنةَ: فَلَجَ (1) عبدُ الله على أبيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4176 - يعقوب وشيخه ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالمطلب نے بیان کیا: ہم موسم سرما کے سفر میں یمن گئے تو میں یہودیوں کے ایک عالم کے پاس ٹھہرا، وہاں اہل زبور میں سے ایک شخص نے مجھ سے کہا: اے عبدالمطلب! کیا آپ مجھے اپنے بدن کے وہ حصے دیکھنے کی اجازت دیں گے جو پردہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: پھر اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کو کھول کر دیکھا، پھر دوسرے کو دیکھا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے ایک ہاتھ میں بادشاہت اور دوسرے میں نبوت ہے، اور میں یہ نبوت بنو زہرہ میں دیکھ رہا ہوں، یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کی کوئی «شاعة» بیوی ہے؟ میں نے کہا: آج تو نہیں ہے۔ اس نے کہا: جب آپ واپس پہنچو تو ان عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لینا۔ چنانچہ عبدالمطلب مکہ واپس آئے اور ہالہ بنت وہب بن عبد مناف سے نکاح کیا، جن سے حمزہ اور صفیہ پیدا ہوئے، اور عبداللہ بن عبدالمطلب نے آمنہ بنت وہب سے نکاح کیا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، تو قریش نے اس وقت کہا جب عبداللہ نے آمنہ سے نکاح کیا: عبداللہ اپنے والد پر «فلج» غالب آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4221]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد العزيز بن عمران، فهو متروك الحديث، ويعقوب بن محمد الزُّهْري - وهو ابن عيسى - فيه لين، لكن هذا الأخير متابعٌ، فيبقى الشأن في الآخر. لكن زواج عبد المطلب بهالة وزواج ابنه عبد الله ووالد النبي ﷺ، بآمنة، فمشهور عند أهل السير شهرةً يُستغنى بها عن الإسناد.» [ترقيم الرساله 4221] [ترقيم الشركة 4198] [ترقيم العلميه 4176]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد العزيز بن عمران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں