المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ذِكْرُ أَخْبَارِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و واقعات کا ذکر
حدیث نمبر: 4219
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أصحاب رسول الله ﷺ، أنهم قالوا: يا رسول الله، أخبِرْنا عن نفسك، فقال:"دعوةُ أبي إبراهيمَ، وبُشرى عيسى، ورأتْ أُمِّي حين حَمَلَت أنه خَرَج منها نُورٌ أضاءتْ له بُصْرى" (1) . وبُصرى من أرض الشام. قال الحاكم: خالد بن مَعْدان من كِبار (1) التابعين، صَحِبَ معاذَ بنَ جَبَل (2) فمَن بَعدَه من الصحابة، فإذا أسندَ حديثًا عن الصحابة، فإنه صحيح الإسناد وإن ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4174 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4174 - صحيح
سیدنا خالد بن معدان، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں خود اپنے متعلق بتائیے۔ آپ نے فرمایا: (میں) اپنے باپ (یعنی دادا) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور جب میری والدہ کو وہ حمل ہوا، جس میں، میں تھا تو ان کے لئے بصری روشن ہو گیا اور بصری سرزمین شام پر ہے۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: خالد بن معدان، کبار تابعین میں سے ہیں، آپ کو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت حاصل ہے کیونکہ آپ نے یہ حدیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب کی ہے اس لئے یہ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4219]
حدیث نمبر: 4220
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قلت لأبي اليَمَان: حدَّثكَ أبو بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن سعيد بن سُوَيد، عن العِرْباض بن سارِيَة السُّلمي، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"إني عندَ الله في أوّل الكتاب لَخاتَمُ النبيين، وإنّ آدمَ لمُنْجَدِلٌ في طِينتِه، وسأنبِّئكم بتأويل ذلك: دعوةُ أبي إبراهيم، وبِشارةُ عيسى قومَه، ورُؤْيا أمي التي رأَتْ أنه خرج منها نُورٌ أضاءت له قصورُ الشام" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک میں اللہ کے ہاں مجھے سب سے پہلے خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا ابھی خمیر تیار کیا جا رہا تھا اور عنقریب میں تمہیں اس کی تاویل سے آگاہ کروں گا (میں) اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور وہ بشارت ہوں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دی تھی اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے ان کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4220]
حدیث نمبر: 4221
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن مَرْثَد الطَّبَراني، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عِمران، حدثنا عبد الله بن جعفر، عن أبي عَون، عن المِسْوَر بن مَخْرَمة، عن ابن عبّاس، عن أبيه، قال: قال عبدُ المُطَّلب: قَدِمْنا اليمنَ في رحلةِ الشتاء، فنزلتُ على حَبْرٍ من اليهود، فقال لي رجل من أهل الزَّبُور: يا عبدَ المُطَّلب، أتأذَنُ لي أن أنظُرَ إلى بدنِك ما لم يكن عَورةٌ، قال: ففتح إحدى مَنْخِرَيَّ فنظر فيه، ثم نظر في الأخرى، فقال: أشهدُ أنَّ في إحدى يَدَيك مُلْكًا، وفي الأخرى نبوةً، وأرى ذلك في بني زُهْرةَ، فكيف ذلك؟ فقلت: لا أدري، قال: هل لك من شاعَةٍ، قال: قلتُ: وما الشاعةُ؟ قال: زوجةٌ، قلت: أما اليومَ فلا، قال: إذا قَدِمْتَ فتَزَوَّجْ فيهن، فرجع عبدُ المُطَّلب إلى مكة، فتزوَّج هالة بنتَ وهبِ بن عبد مَنافٍ، فوَلَدَت له حمزةَ وصفيّةَ، وتزوج عبدُ الله بن عبد المطّلب آمنةَ بنت وهبٍ، فولَدَت رسولَ الله ﷺ، فقالت قريشٌ حين تَزوَّج عبدُ الله آمنةَ: فَلَجَ (1) عبدُ الله على أبيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4176 - يعقوب وشيخه ضعيفان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4176 - يعقوب وشيخه ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالمطلب نے کہا: ہم سردیوں کے سفر میں یمن گئے۔ اس دوران ہم نے ایک یہودی عالم کے پاس قیام کیا تو ایک زبور جاننے والے آدمی نے مجھ سے کہا: اے عبدالمطلب! کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ میں عورت (یعنی بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا ضروری ہے) کے علاوہ آپ کے بدن کو دیکھ سکوں (میں نے اجازت دی تو) اس نے میرے ناک کا ایک بانسہ کھولا اور اس میں دیکھا، پھر دوسرا دیکھا۔ پھر بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے اور دوسرے ہاتھ میں نبوت۔ میں اس کو بنو زہرہ میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ کیسے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا: کیا تیری ” شاعہ “ ہے؟ میں نے کہا: شاعہ کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: بیوی۔ میں نے کہا: اس وقت تو میری کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے کہا جب تو واپس جائے تو ان (بنو زہرہ) میں شادی کرنا۔ سیدنا عبدالمطلب مکہ واپس آئے تو ہالہ بنت وہب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی تو ان کے ہاں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں اور سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شادی سیدنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی تو قریش کہنے لگے: عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بازی لے گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4221]