المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. اسْتِغْفَارُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِحَقٍّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت آدم علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے استغفار کرنا
حدیث نمبر: 4274
حدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا أبو الحسن محمد بن إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، حدثنا أبو الحارث عبد الله بن مسلم الفِهْري، حدثنا إسماعيل بن مَسلَمة، أخبرنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عُمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا اقترفَ آدمُ الخطيئةَ قال: يا ربِّ، أسألُك بحقّ محمدٍ لَمَا غَفَرْتَ لي، فقال الله: يا آدمُ، وكيف عرفتَ محمدًا ولم أخلُقْه؟ قال: يا ربِّ، لأنك لما خلقَتني بيدِك ونفخْتَ فيَّ من رُوحِك، رفعتُ رأسي فرأيتُ على قوائم العرشِ مكتوبًا: لا إله إلَّا الله محمد رسول الله، فعلمتُ أنك لم تُضِفْ إلى اسمِك إلَّا أحبَّ الخلقِ إليك، فقال الله: صدقتَ يا آدم، إنه لأحبُّ الخلق إليَّ، وإذ سألْتَني (1) بحقه (2) فقد غَفَرتُ لك، ولولا محمدٌ ما خَلَقتُك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أولُ حديث ذكرتُه لعبد الرحمن بن زيد بن أسلَمَ في هذا الكتاب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4228 - بل موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أولُ حديث ذكرتُه لعبد الرحمن بن زيد بن أسلَمَ في هذا الكتاب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4228 - بل موضوع
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم (علیہ السلام) سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے میرے رب! میں تجھ سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیسے پہچانا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اس لیے کہ جب تو نے مجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی، تو میں نے اپنا سر اٹھایا اور عرش کے پائوں پر لکھا ہوا دیکھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں“، تو میں جان گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ صرف اسی ہستی کا نام جوڑا ہے جو تجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے سچ کہا، بے شک وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، اور جب تم نے ان کے واسطے سے مجھ سے مانگا تو میں نے تمہیں معاف کر دیا، اور اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یہ پہلی حدیث ہے جسے میں نے اس کتاب میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی روایت سے ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4274]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یہ پہلی حدیث ہے جسے میں نے اس کتاب میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی روایت سے ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا لتفرد عبد الرحمن بن زيد بن أسلم به، وهو ضعيف باتفاق خاصة فيما ينفرد به عن أبيه، وما وقع في إسناد الحاكم من تسمية أبي الحارث الفِهْري بعبد الله بن مسلم وتسمية شيخه بإسماعيل بن مسلمة، فيغلب على الظن أنه حصل فيه تحريف في كلا الاسمين، وذلك ...» [ترقيم الرساله 4274] [ترقيم الشركة 4251] [ترقيم العلميه 4228]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا لتفرد عبد الرحمن بن زيد بن أسلم به
حدیث نمبر: 4275
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا قُرادٌ أبو نُوح، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبي موسى، قال: خرج أبو طالبٍ إلى الشام، وخرج معه رسولُ الله ﷺ في أشياخٍ من قريش، فلما أشرفُوا على الراهِبِ هبَطُوا، فحوَّلُوا رحالَهم، فخرج إليهم الراهبُ، وكانوا قبلَ ذلك يَمرُّون به فلا يخرج إليهم ولا يَلتفِتُ، قال: وهم يَحُلُّون رحالَهم، فجعل يتخلَّلُهم حتى جاء فأخذَ بيدِ رسولِ الله ﷺ، قال: هذا سيّدُ العالَمين، هذا رسولُ ربِّ العالَمين، هذا يبعثُه اللهُ رحمةً للعالَمين، فقال له أشياخٌ من قريش: وما عِلْمُك بذلك؟ قال: إنكم حين أشرفتُم من العَقبةِ لم يَبْقَ شجرٌ ولا حجرٌ إِلَّا خَرَّ ساجدًا، ولا تَسجدُ إِلَّا لِنبيٍّ، وإني أعرفُه خاتَمُ النبوة أسفل من غُضروف كتفِه مثلُ التفّاحة، ثم رجع فَصَنَع لهم طعامًا ثم أتاهم، وكان رسول الله ﷺ في رِعْية الإبل، قال: أرسِلُوا إليه، فأقبلَ وعليه غَمامةٌ تُظِلُّه، قال: انظُروا إليه، غَمامةٌ تُظلُّه، فلما دنا من القوم وَجَدَهُم قد سَبَقُوه إلى فَيْء الشجرة، فلما جلسَ مال فيءُ الشجرة عليه، قال: انظُروا إلى فيء الشجرة مالَ عليه، فبينما هو قائم عليه وهو يُناشِدُهم أَن لا تَذْهَبُوا به إلى الروم، فإنَّ الرومَ إن رأوه عرفُوه بالصِّفة فقتلوه. فالتفتَ فإذا هو بسبعةٍ نفرٍ قد أقبَلُوا من الروم فاستقبَلَهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا، فإنَّ هذا النبيَّ خارجٌ في هذا الشهر فلم يَبْقَ طريقٌ إِلَّا قد بُعث ناسٌ، وإنا بُعِثْنا إلى طريقِه هذا، فقال لهم الراهبُ: هل خَلَّفتُم خَلْفَكم أحدًا هو خيرٌ منكم؟ قالوا: لا، قالوا: إنما أُخبرنا خَبَرَه، بُعِثنا لطريقك هذا، قال: أفرأيتُم أمرًا أراده اللهُ أن يَقضِيَه، هل يستطيعُ أحدٌ من الناس ردَّه؟ قالوا: لا، قال: فبايِعُوه، فبايَعُوه وأقامُوا معه، قال: فأتاهم الراهبُ، فقال: أنشُدُكُمُ الله أَيكُم وَليُّه، قالوا: أبو طالب، فلم يَزَلْ يُناشِدُه حتى ردَّه وبعثَ معه أبو بكر بلالًا، وزَوّدَه الراهبُ من الكَعْك والزيتِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طالب قریش کے چند شیوخ کے ہمراہ شام کی طرف نکلے اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، پس جب وہ راہب کے پاس سے گزرنے لگے تو وہ سواریوں سے نیچے اترے اور اپنے کجاوے کھولے، وہ راہب ان کی طرف نکل آیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے لیکن وہ کبھی باہر نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دیتا تھا، وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے کجاوے کھول ہی رہے تھے کہ وہ راہب ان کے درمیان چلتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں، یہ رب العالمین کے رسول ہیں، اللہ انہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمائے گا“، تو قریش کے شیوخ نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا: جب تم لوگ گھاٹی سے نیچے اتر رہے تھے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں بچا تھا جو سجدے میں نہ گر گیا ہو، اور یہ چیزیں صرف نبی ہی کو سجدہ کرتی ہیں، اور میں انہیں ان کے کندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کے برابر مہرِ نبوت سے پہچانتا ہوں، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا اور ان کے پاس لے آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرا رہے تھے، اس نے کہا: انہیں بلاؤ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک بادل آپ پر سایہ فگن تھا، اس نے کہا: انہیں دیکھو، بادل ان پر سایہ کر رہا ہے، پھر جب آپ لوگوں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ لوگ پہلے ہی درخت کے سائے پر قبضہ کر چکے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی طرف جھک گیا، اس نے کہا: درخت کے سائے کو دیکھو وہ ان کی طرف جھک گیا ہے، پس جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو وہ انہیں قسمیں دے رہا تھا کہ اسے روم نہ لے کر جائیں، کیونکہ رومی اگر انہیں دیکھ لیں گے تو ان کی صفات سے انہیں پہچان کر قتل کر دیں گے۔ پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات رومی وہاں آ پہنچے ہیں، اس نے ان کا استقبال کیا اور پوچھا: تم یہاں کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس لیے آئے ہیں کیونکہ یہ نبی اسی مہینے میں نکلنے والا ہے، پس کوئی راستہ ایسا نہیں بچا جہاں لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور ہمیں اسی راستے کی طرف بھیجا گیا ہے، راہب نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی ایسا شخص ہے جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: ہمیں تو بس ان کی خبر دی گئی تھی، ہمیں تمہارے اسی راستے کے لیے بھیجا گیا ہے، اس نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ کسی کام کا فیصلہ کر لے تو کیا کوئی انسان اسے روک سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر ان کی بیعت کر لو، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی اور وہیں ٹھہر گئے، راہب ان کے پاس آیا اور پوچھا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ ان کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابو طالب، وہ مسلسل انہیں قسمیں دیتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے انہیں واپس بھیج دیا اور ابوبکر نے ان کے ساتھ بلال کو بھیجا، اور راہب نے انہیں زادِ راہ کے طور پر کچھ بسکٹ اور زیتون دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4275]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث: «خبر منكر جدًّا، قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 503: حديث منكر جدًّا، وأين كان أبو بكر؟! كان ابنَ عشر سنين، فإنه أصغر من رسول الله ﷺ بسنتين ونصف، وأين كان بلال في هذا الوقت؟! فإنَّ أبا بكر لم يشتره إلا بعد المبعث ولم يكُن وُلد بعدُ، وأيضًا فإذا كان ...» [ترقيم الرساله 4275] [ترقيم الشركة 4252] [ترقيم العلميه 4229]
الحكم على الحديث: خبر منكر جدًّا