🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
حدثنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا حامد بن سهل الثَّغْري، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب ومعمر والنُّعمان بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما لَعَنَ رسولُ الله ﷺ مسلمًا من لعنةٍ بذكْرٍ (2) ، ولا ضَرَبَ بيده شيئًا قَطُّ إلَّا أن يضربَ بها في سبيل الله، ولا سُئل عن شيء قَطُّ فمنعَه إلَّا أن يُسأل مَأثَمًا، فإن كان مأثمًا كان أبعدَ الناس منه، ولا انتَقَم لِنفسِه من شيء قَطُّ يُؤتى إليه، إلَّا أن تُنتَهَكَ حُرماتُ الله، فيكونُ لله يَنتَقِمُ، ولا خُيِّر بين أمرَين قطُّ إلا اختارَ أيسرَهُما، وكان إذا أحدَث العهد بجبريلَ يُدارِسُه كان أجودَ الناسِ بالخَير مِن الرِّيحِ المُرسَلةِ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. ومن حديث أيوب السَّختِياني غريبٌ جدًّا، فقد رواه سليمان بن حَرْب وغيرُه عن حماد، ولم يذكروا أيوب، وعارِمٌ ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4223 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی اور نہ اپنے ہاتھ سے کبھی کسی چیز کو مارا، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہاتھ کے ساتھ مارا ہے۔ اور آپ سے جب بھی کسی نے کچھ مانگا، آپ نے اس کو منع نہیں فرمایا۔ البتہ گناہ کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ گناہ سے بہت دور رہنے والے تھے اور آپ نے اپنی کسی تکلیف پر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر حرمات اللہ کی توہین کی جاتی تو آپ اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیتے اور آپ کو جب بھی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے اس کو پسند کیا جو آسان تر ہو اور جب جبریل امین شروع شروع میں آپ کے ساتھ (قرآن کریم کا) دور کرنے آتے تھے تو آپ لوگوں پر تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ اور یہ ایوب سختیانی کی حدیث سے زیادہ غریب ہے چنانچہ اس کو سلمان بن حرب وغیرہ نے سیدنا حماد کے حوالے سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایوب کا ذکر نہیں ہے اور غارم ثقہ ہیں، مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4269]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4270
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يونس بن عمرو، عن العَيزار بن حُرَيث، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ مكتوبٌ في الإنجيل: لا فَظٌّ ولا غليظٌ، ولا سَخَّابٌ بالأسواق، ولا يَجزي بالسيئة مثلَها، بل يَعفُو ويَصفَحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4224 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: انجیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات یوں لکھی ہوئی تھیں۔ آپ تندخو اور بدمزاج نہیں، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے اور درگزر فرما دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4270]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4271
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأدَمِي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أحمد بن نصر بن مالك الخُزاعي، حدثنا علي بن الحسين بن واقِد، عن أبيه، قال: سمعتُ يحيى بن عُقَيل يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي أوفى يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الذِّكْرَ، ويُقلُّ اللغوَ، ويُطيلُ الصلاةَ، ويَقصُر الخُطبةَ، ولا يَستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ حتى يَفرُغَ لهم من حاجتِهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ فضول گوئی نہیں کرتے تھے، نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4271]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعْبة، عن قَتَادة، قال: سمعت عبد الله بن أبي عُتبة يقول: سمعت أبا سعيد الخُدْري يقول: كان رسول الله ﷺ يُكثر الذِّكر، ويُقِلُّ اللغوَ، ويُطيل، الصلاة، ويَقصُر الخُطبَة، ولا يستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ، حتى يَفرُغَ لهم من حاجتهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)[الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے اور فضول گوئی نہیں کرتے تھے۔ نماز طویل کرتے اور خطبہ مختصر کرتے تھے اور آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَقَدِ اخْتَرْنَاھُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعَالَمِیْن (الدخان: 32) بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ (الانعام: 124) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ اور فرمایا: نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی لَخُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم: 1 تا 4) قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہاء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4272]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حدثنا عَلي بن حَمْشَاذَ العَدْل إملاءً، حدثنا هارون بن العباس الهاشمي، حدثنا جَنْدَلُ بن والقٍ، حدثنا عمرو بن أوس الأنصاري، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى عيسى ﵇: يا عيسى، آمن بمحمدٍ، وأُمُر من أدركَه من أمتك أن يُؤمنوا به، فلولا محمدٌ ما خلقتُ آدمَ، ولولا محمدٌ ما خلقتُ الجنةَ والنارَ، ولقد خلقتُ العرشَ على الماء، فاضطربَ فكتبتُ عليه: لا إله إلّا الله [محمد رسول الله] (2) فسَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4227 - أظنه موضوعا على سعيد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دے دو کہ ان میں سے جو ان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پر بنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھ دیا تو وہ ساکن ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4273]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں