المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ذِكْرُ شَقِّ صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کے سینۂ مبارک کے شق ہونے کا ذکر
حدیث نمبر: 4276
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح الحَضْرمي، حدثنا بقيَّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سَعْد، عن خالد [بن مَعْدان، عن] (1) ابن عَمرو السُّلمي، عن عُتْبة بن عَبْدٍ: أَنَّ رجلًا سألَ رسولَ الله ﷺ كيفَ - أو ما - كان أول شأنِك يا رسولَ الله؟ قال:"كانت حاضِنَتي من بني سَعْد بن بكر، فانطلقتُ أنا وابنٌ لها في بَهْمٍ لنا، ولم نأخُذْ معنا زادًا، فقلت: يا أخي، اذهَبْ فأتِنا بِزادٍ من عند أُمَّنا، فانطلَقَ أخي وكنتُ عند البَهْمِ، فأقبل طَيْرانِ أبيضانِ كأنهما نَسْران، فقال أحدُهما لصاحِبِه، أهُو هُو؟ قال: نعم، فأقبَلا يَبتَدِراني، فأخذاني فبَطَحَاني للقَفَا فشَقّا بَطْني، ثم استَخْرجا قلبي فشَقّاه، فأخرجا منه عَلَقَتين سَودَاوَين، فقال أحدهما لصاحبِه: حُصْهُ - يعني خِطْهُ - واختِمْ عليه بخاتَم النبوّة، فقال أحدُهما لصاحبِه: اجعلْه في كِفّةٍ واجعل ألفًا من أمتِه في كِفّة، فإذا أنا أنظُرُ إلى الألْف فَوقي أُشفِقُ أن يَخِرُّوا عليَّ، فقالا: لو أنَّ أمَّتَه وُزِنَتْ به لمالَ بهم، ثم انطَلَقا وتَرَكاني، وفَرِقْتُ فَرَقًا شديدًا، ثم انطلقتُ إلى أمي فأخبرتُها بالذي رأيتُ، فأشفَقَت أن يكون قد التُبِسَ بي، فقالت: أعِيدُك بالله، فرَحَلَتْ بعيرًا لها فجعلَتْني على الرَّحْل ورَكِبَتْ خَلْفي، حتى بَلَغْنا أمّي، فقالت: أدَّيتُ أمانَتي وذِمَّتي، وحَدَّثَتْها بالذي لَقِيتُ، فلم يَرُعْها ذلك، قالت إني رأيتُ خرج مني نُورٌ أضاءتْ منه قُصورُ الشام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4230 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4230 - على شرط مسلم
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھ سب سے پہلا واقعہ کیا پیش آیا تھا؟ آپ نے فرمایا: میری دایہ بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایک دن میں اور ان کا بیٹا ریوڑ لے کر گئے ہوئے تھے اور ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے کہا: اے میرے بھائی! تم جاؤ اور امی جان سے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ، تو میرا بھائی چلا گیا اور بکریوں کے پاس میں اکیلا تھا۔ میں نے دیکھا کہ گدھ کے جیسے دو سفید پرندے میری طرف آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہی ہے وہ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں۔ تو وہ جلدی جلدی میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے پکڑ کر چت لٹا لیا۔ پھر میرا پیٹ چاک کیا، پھر میرا دل نکالا، پھر اس کو بھی چیرا اور اس میں سے دو سیاہ رنگ کے لوتھڑے نکالے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو کاٹ لو اور اس پر نبوت کی مہر ثبت کر دو تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک ہاتھ میں رکھو اور دوسرے ہاتھ میں ان کی امت کے ایک ہزار آدمیوں کو رکھو۔ تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک ہزار آدمی میرے اوپر تھے اور مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہ میرے اوپر نہ گر جائیں۔ پھر انہوں نے کہا: اگر اس کی پوری امت کو بھی اس کے ساتھ وزن کریں گے تو یہ پھر بھی بھاری ہو گا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور وہ چلے گئے اور مجھ پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور تمام قصہ ان کو سنایا تو وہ خود اس بات سے ڈر گئیں کہ کہیں مجھ کو کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ وہ بولیں: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ پھر انہوں نے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھایا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئیں اور چل پڑیں۔ حتیٰ کہ وہ مجھے میری والدہ کے پاس لے آئی۔ آپ میری والدہ سے بولیں: میں نے یہ امانت تمہارے سپرد کر دی ہے اور اب میں بری الذمہ ہوں۔ پھر میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ میری والدہ کو سنایا لیکن میری والدہ اس سے پریشان نہ ہوئیں اور بولیں: بے شک میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور خارج ہوا ہے جس کی روشنی سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4276]