المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. لِقَاءُ إِلْيَاسَ مَعَ النَّبِيِّ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ
حضرت الیاس علیہ السلام کی نبی کریم ﷺ سے ملاقات
حدیث نمبر: 4277
حدثنا أبو العباس أحمد بن سعيد المَعْدانِيّ ببُخارَى، حدثنا عبد الله بن محمود، حدثنا عَبْدان بن سَيّار، حدثنا أحمد بن عبد الله البَرْقِي، حدثنا يزيد بن يزيد البَلَويّ، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن مَكحُول، عن أنس بن مالك، قال: كُنّا مع رسولِ الله ﷺ في سفر فنزلنا مَنزِلًا، فإذا رجلٌ في الوادي يقولُ: اللهمَّ اجعَلْني من أمةِ محمدٍ المَرحُومةِ المَغفُورةِ المُثابِ لها، قال: فأشرفْتُ على الوادِي، فإذا رجلٌ طولُه أكثرُ من ثلاثِ مئةِ ذِراعٍ، فقال لي: مَن أنتَ؟ قال: قلتُ: أنس بن مالك خادمُ رسولِ الله ﷺ، قال: أين هُو؟ قلت: هو ذا يسمعُ كلامَكَ، قال: فائتِه وأقرئْه مني السلام، وقل له: أخوك إلياسُ يُقرئُك السلامَ، فأتيتُ النبيَّ ﷺ فأخبرتُه، فجاء حتى لقيه فعانَقَه وسلَّم عليه، ثم قعدا يَتحدّثان، فقال له: يا رسول الله، إني إنما آكُلُ في كل سنةٍ يومًا، وهذا يومُ فِطْري، فآكُلُ أنا وأنتَ، فنزلتْ عليهما مائدةٌ من السماء عليها خُبزٌ وحُوتٌ وكَرَفْسٌ، فأكلا وأطعَمَاني، وصَلَّيا العصرَ، ثم وَدَّعَه، ثم رأيتُه مرَّ على السحابِ نحوَ السماءِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4231 - بل موضوع قبح الله من وضعه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4231 - بل موضوع قبح الله من وضعه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو اچانک وادی میں ایک شخص یہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ الْمَرْحُومَةِ الْمَغْفُورَةِ الْمُثَابِ لَهَا» ”اے اللہ! مجھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اس امت میں شامل فرما جس پر رحم کیا گیا، جس کی بخشش کر دی گئی اور جسے ثواب عطا کیا گیا ہے“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وادی میں جھانک کر دیکھا تو وہاں ایک شخص تھا جس کا قد تین سو ذراع سے بھی زیادہ تھا، اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: انس بن مالک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم، اس نے پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا: وہ یہاں موجود آپ کی بات سن رہے ہیں، اس نے کہا: ان کے پاس جائیے اور انہیں میرا سلام کہیے اور کہیے کہ آپ کا بھائی الیاس (علیہ السلام) آپ کو سلام کہتا ہے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ ان سے ملاقات کی، ان سے معانقہ کیا اور انہیں سلام کیا، پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، الیاس علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سال میں صرف ایک ہی دن کھاتا ہوں اور آج میرا افطار کا دن ہے، لہذا میں اور آپ مل کر کھاتے ہیں، پس ان دونوں پر آسمان سے ایک دسترخوان اترا جس پر روٹی، مچھلی اور اجوائن (کرفس) تھی، انہوں نے کھایا اور مجھے بھی کھلایا، پھر ان دونوں نے عصر کی نماز ادا کی، اس کے بعد الیاس علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہا، پھر میں نے دیکھا کہ وہ بادلوں پر سوار ہو کر آسمان کی طرف چلے گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4277]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث: «خبر موضوع، وهذا إسناد ضعيفٌ بمرَّةٍ كما قال البيهقي في "دلائل النبوة" 5/ 422، وذلك أنَّ يزيد بن يزيد البلوي الموصلي وشيخَه أبا إسحاق - وهو الجُرَشي، لا الفَزَارِي الثقة - لا يُعرفان كما قال ابن الجوزي في "الموضوعات" (408)، وقد حصل هنا خطأ في نسبة أبي إسحاق بأنه الفَزَاري، ...» [ترقيم الرساله 4277] [ترقيم الشركة 4254] [ترقيم العلميه 4231]
الحكم على الحديث: خبر موضوع