المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. اجْتِمَاعُ الشَّجَرَتَيْنِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ
رسول اللہ ﷺ کے حکم سے دو درختوں کا آپس میں مل جانا
حدیث نمبر: 4278
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن يعلى بن مُرّة، عن أبيه، قال: سافرتُ مع رسول الله ﷺ فرأيتُ منه شيئًا عجبًا؛ نزلْنا منزلًا فقال:"انطلِقْ إلى هاتَين الشجرتَين، فقل: إنَّ رسول الله ﷺ يقولُ لكما أن تَجتَمِعا" فانطلقتُ فقلتُ لهما ذلك، فانتَزَعَتْ كلُّ واحدةٍ منهما من أصلِها، فمَرَّت كلُّ واحدةٍ إلى صاحبتِها فالْتقتا جميعًا، فقضى رسولُ الله ﷺ حاجتَه من ورائهما، ثم قال:"انطلِقْ، فقُل لهما لِتعُودَ كلُّ واحدةٍ إلى مكانها" فأتيتُهما فقلتُ ذلك لهما، فعادَتْ كلُّ واحدةٍ إلى مكانها. وأتتْه امرأةٌ فقالت: إنَّ ابني هذا به لَمَمٌ منذ سبع سنين يأخذُه كلَّ يومٍ مرتَين، فقال رسول الله ﷺ:"أذْنِيهِ" فأدنَتْه منه، فتَفَلَ في فِيْهِ، وقال:"اخرُجْ عدوَّ الله أنا رسولُ الله" ثم قال لها رسولُ الله ﷺ:"إذا رَجَعْنا فأعلِمِينا ما صنَعَ"، فلما رجعَ رسولُ الله ﷺ استقبَلَتْه ومعها كَبْشانِ وأَقِطٌ وسَمْنٌ، فقال لى رسولُ الله ﷺ:"خُذْ هذا الكبشَ فاتَّخِذْ منه ما أردتَ"، فقالت: والذي أكرمك ما رأينا به شيئًا منذُ فارقَتَنا. ثم أتاهُ بَعيرٌ فقام بين يَدَيه فرأى عينَيه تدمعان، فبعثَ إلى أصحابه، فقال:"ما لِبَعيرِكُم هذا يَشكُوكم؟" فقالوا: كنا نعملُ عليه، فلما كَبِرَ وذهَبَ عَمَلُه، تواعَدْنا عليه لِنَنحَرَه غدًا، فقال رسول الله ﷺ:"لا تَنحَرُوه واجعَلُوه في الإبلِ يكونُ معها" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقةِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4232 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقةِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4232 - صحيح
یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نہایت عجیب معاملہ دیکھا؛ ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو درختوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم دونوں آپس میں مل جاؤ“، میں گیا اور انہیں یہ بات کہی، تو ان میں سے ہر ایک اپنی جڑ سے اکھڑ گیا اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ دونوں آپس میں مل گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ ہر ایک اپنی جگہ واپس چلا جائے“، میں نے ان کے پاس جا کر یہ بات کہی تو ہر ایک اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میرا یہ بیٹا ہے جسے سات سال سے جنون (مرگی) کا دورہ پڑتا ہے اور اسے ہر روز دو بار دورہ آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے قریب کرو“، اس نے اسے قریب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور فرمایا: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» ”اے اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”جب ہم واپس آئیں تو ہمیں بتانا کہ اس نے کیا کیا“، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو وہ عورت آپ سے ملی، اس کے ساتھ دو مینڈھے، کچھ پنیر اور گھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یہ مینڈھا پکڑ لو اور اس سے جو تم چاہو تیار کر لو“، اس عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی! جب سے آپ ہم سے جدا ہوئے ہیں ہم نے اس (بچے) میں کوئی بیماری نہیں دیکھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالکوں کو بلایا اور فرمایا: ”تمہارا یہ اونٹ تمہاری کیا شکایت کر رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اس پر کام لیتے تھے، اب جب یہ بوڑھا ہو گیا اور اس کی کام کرنے کی سکت ختم ہو گئی تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کل اسے ذبح کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح نہ کرو بلکہ اسے اونٹوں میں چھوڑ دو تاکہ یہ ان کے ساتھ رہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4278]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4278]
تخریج الحدیث: «ضعيف من حديث يعلى بن مرة لاضطرابه، وهذا إسناد منقطع، فقد جزم المزي في "تهذيب الكمال" 28/ 569 و 32/ 399، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 552 بأنَّ المنهال بن عمرو روايته عن يعلى بن مُرة مرسَلَة، وأقرَّ الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" المزيِّ فيما قاله. والحجة في ذلك ...» [ترقيم الرساله 4278] [ترقيم الشركة 4255] [ترقيم العلميه 4232]
الحكم على الحديث: ضعيف من حديث يعلى بن مرة لاضطرابه
حدیث نمبر: 4279
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو النعمان، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت أبي يُحدِّث عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن سَمُرة بن جُندُب، أنه حدَّثَه: أنَّ قَصْعةً كانت عند رسولِ الله ﷺ، فجعلَ الناسُ يأكُلُون منها، فكلما شبعَ قومٌ جلسَ مكانَهم أُناسٌ آخَرون، قال: كذلك إلى صلاة الأُولى، فقال رجلٌ: إنها تُمَدُّ بشيءٍ، فقال سمرةُ: ما كانت تُمَدُّ إِلَّا مِن السماءِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4233 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4233 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا پیالہ تھا جس سے لوگ کھانا کھاتے تھے، جب ایک گروہ سیر ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرے لوگ بیٹھ جاتے، راوی کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ظہر کی نماز کے وقت تک اسی طرح چلتا رہا، تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا اس پیالے کو نیچے سے کسی چیز کے ذریعے بڑھایا جا رہا تھا؟ تو سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے صرف آسمان سے ہی غیبی مدد دی جا رہی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4279]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السَّدُوسي، وسليمان: هو ابن طَرْخان التيمي.» [ترقيم الرساله 4279] [ترقيم الشركة 4256] [ترقيم العلميه 4233]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السَّدُوسي