🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. هَدْيَةِ الطَّرِيقِ مِنَ الْأَسَدِ لِخَادِمِ النَّبِيِّ
راستے میں شیر کا نبی کریم ﷺ کے خادم کے لیے ہدیہ لانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4281
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازِم الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا أسامة بن زيد، عن محمد بن المُنكَدِر، عن سَفِينة، قال: ركبتُ البَحْرَ في سفينةٍ، فانكسَرَتْ، فركبتُ لَوحًا منها فطَرَحَني في أجَمَةٍ فيها أسدٌ، فلم يَرُعْني إلّا به، فقلت: يا أبا الحارث، أنا مَولَى رسولِ الله ﷺ، فطأَطأَ رأسَه وغَمَزَ بِمَنْكِبِه شِقِّي، فما زال يَعْمِرُني ويَهديني إلى الطّريقِ، حتى وَضَعَني على الطّريقِ، فلما وَضَعَني هَمْهَمَ، فظننتُ أنه يُودِّعُني (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4235 - صحيح
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک کشتی میں سمندر کے سفر پر تھا کہ وہ کشتی ٹوٹ گئی تو میں نے اس کے ایک تختے کو تھام لیا، اس نے مجھے ایک جنگل میں جا پھینکا، اس جنگل میں شیر بھی تھے، ایک شیر میرے سامنے آ گیا۔ میں نے اس سے کہا: اے ابوالحارث! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے کندھے میرے پہلو سے رگڑنے لگا۔ وہ مسلسل مجھے یونہی ملتا رہا اور راستہ دکھاتا رہا حتیٰ کہ اس نے مجھے راستے پر لا کھڑا کیا۔ جب میں راستہ پر پہنچ گیا تو غرانے لگا۔ تو میں سمجھ گیا کہ اب یہ مجھے الوداع کہہ رہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں