المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ذِكْرُ الْبَيْعَةِ عَلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کا ذکر
حدیث نمبر: 4296
حدثني أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يزيد بن أبي حَبيب، عن مَرثَد بن عبد الله اليَزَني، عن عبد الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي، عن عُبادة بن الصامت، قال: كنا أحدَ عشرَ في العَقَبةِ الأُولى من العام المُقبِل، فبايَعْنا رسولَ الله ﷺ بَيْعةَ النساءِ قبل أن تُفرَض علينا الحربُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4250 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4250 - على شرط مسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم اگلے سال بیعتِ عقبہ اولیٰ میں گیارہ افراد تھے، پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہی شرائط پر بیعت کی جن پر عورتوں سے بیعت لی جاتی تھی (یعنی بیعتِ نساء)، اور یہ قتال و جنگ کے فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4296]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من محمد بن إسحاق - وهو المطّلبي مولاهم، صاحب السيرة - وقد صرَّح بسماعه فانتفت شبهة تدليسه. لكن قوله في الخبر هنا: كنا أحد عشر، وهمٌ، صوابُه: اثني عشر، كما جاء في سائر روايات الحديث.» [ترقيم الرساله 4296] [ترقيم الشركة 4273] [ترقيم العلميه 4250]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4297
حدثني محمد بن إسماعيل المُقرئ، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا محمد بن يحيى بن أبي عُمر العَدَني، حدثنا يحيى بن سُلَيم، عن ابن خُثَيم، عن أبي الزُّبَير، عن جابر بن عبد الله الأنصاري: أن النبيَّ ﷺ لَبِثَ عشرَ سنين يَتْبع الناسَ في مَنازِلهم في المَوسِم ومَجَنَّةَ وعُكاظ، ومنازِلهم من منًى:"مَن يُؤويني؟ من يَنصُرُني حتى أبلِّغَ رسالاتِ ربي؟ فلَهُ الجنةُ" فلا يجِدُ أحدًا يَنصُرُه ولا يُؤويه، حتى إِنَّ الرجلَ لَيَرحَلُ من مصر أو من اليمن إلى ذي رَحِمِه، فيأتيه قومُه فيقولون له: احذَرْ غلامَ قُريشٍ، لا يَفتِنُك، ويمشي بين رحالِهم يدعُوهم إلى الله ﷿ يُشيرون إليه بالأصابع، حتى بَعَثَنا اللهُ من يَثربَ، فيأتيه الرجلُ منا فيؤمِنُ به ويُقرئُه القرآنَ، فَيَنقَلِبُ إلى أهلِه فيُسلِمُون بإسلامه، حتى لم تبقَ دارٌ من دُورِنا إلّا فيها رَهْطٌ من المسلمين يُظهِرون الإسلامَ، وبَعَثَنا اللهُ إليه فائتمَرْنا واجتمَعْنا، وقلنا: حتى متى رسولُ الله ﷺ يُطْرَدُ في جبال مَكةَ ويُخافُ؟! فرحَلْنا حتى قَدِمْنا عليه في المَوسِم، فواعَدَنا بيعةَ العقبةِ. فقال له عمُّه العباسُ: يا ابن أخي، لا أدري ما هؤلاء القومُ الذين جاؤوك، إني ذو مَعرفةٍ بأهل يَثرِبَ، فاجتَمعْنا عندَه مِن رجُلٍ ورجُلَين، فلما نظر العباسُ في وجُوهِنا، قال: هؤلاء قومٌ لا نَعرِفُهم هؤلاء أحداثٌ، فقلنا: يا رسول الله، على ما نُبايُعك؟ قال:"تُبايِعُوني على السمْع والطاعة، في النشاطِ والكَسَلِ، وعلى النفقة في العُسر واليُسر، وعلى الأمرِ بالمعروف والنهْي عن المُنكَر، وعلى أن تقُولُوا في الله لا تأخذُكم لومةُ لائِمٍ، وعلى أن تنصُروني إذا قَدِمتُ عليكم، وتَمنَعُوني مما تَمنَعُون منه أنفُسَكم وأزواجَكم وأبناءَكم، ولكُمُ الجنة"، فقُمْنا نَبايِعُه، فأخذ بيده أسعدُ بن زُرارةَ وهو أصغر السبعين، إلّا أنه قال: رُوَيدًا يا أهلَ يَثرِبَ، إنا لم نَضْرِب إليه أكباد المَطيِّ إِلَّا ونحن نَعلَمُ أنه رسولُ الله، وإن إخراجَه اليومَ مُفارقَةُ العربِ كَافَّةً، وقتلُ خِيارِكُم، وأن يَعضَكُمُ السيفُ، فإما أنتم قومٌ تَصبِرون عليها إذا مَسَّتْكُم وعلى قتل خِيارِكُم ومُفارقَةِ العَرَبِ كافَّةَ، فَخُذُوه وأجرُكم على الله، وإما أنتم تَخافُون من أنفُسِكم خِيفَةً فذَرُوه، فهو أعذَرُ عند الله ﷿، فقالوا: يا أسعدُ، أمِطْ عنا يَدَك، فوالله لا نَذَرُ هذه البيعةَ ولا نَستَقِيلُها، قال: فقُمنا إليه رجلًا رجلًا، فأَخَذَ علينا ليُعطينا بذلك الجنة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، جامعٌ لِبَيعة العقبةِ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4251 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، جامعٌ لِبَيعة العقبةِ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4251 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک حج کے موسموں اور مجنہ اور عکاظ کے میلوں میں اور منیٰ میں لوگوں کی قیام گاہوں پر ان کے پیچھے تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”کون ہے جو مجھے پناہ دے؟ کون ہے جو میری مدد کرے تاکہ میں اپنے رب کے پیغامات پہنچا سکوں؟ تو اس کے لیے جنت ہے“ لیکن آپ کو کوئی ایسا نہ ملتا جو آپ کی مدد کرتا یا پناہ دیتا، یہاں تک کہ کوئی شخص مصر یا یمن سے اپنے کسی رشتہ دار کے پاس آتا تو اس کی قوم کے لوگ اسے آ کر کہتے: قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کجاووں کے درمیان چلتے ہوئے انہیں اللہ عزوجل کی طرف بلاتے تھے جبکہ وہ لوگ آپ کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں یثرب سے بھیجا، تو ہم میں سے کوئی شخص آپ کے پاس آتا، آپ پر ایمان لاتا اور آپ اسے قرآن پڑھاتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا تو اس کے اسلام لانے کی برکت سے وہ سب بھی اسلام لے آتے، یہاں تک کہ ہمارے گھروں میں سے کوئی ایسا گھر نہ بچا جس میں مسلمانوں کی ایک جماعت موجود نہ ہو جو اسلام کا اظہار کرتی ہو، پھر اللہ نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا اور جمع ہوئے، اور ہم نے کہا: آخر کب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑوں میں دھتکارے جاتے رہیں گے اور خوفزدہ رہیں گے؟! پس ہم نے کوچ کیا یہاں تک کہ حج کے موسم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے ہم سے بیعتِ عقبہ کا وعدہ فرمایا۔ آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے میرے بھتیجے! میں نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں جو تمہارے پاس آئے ہیں، کیونکہ میں اہل یثرب کو خوب جانتا ہوں، پس ہم آپ کے پاس ایک ایک دو دو کر کے جمع ہوئے، جب عباس نے ہمارے چہروں کو دیکھا تو کہا: یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے، یہ تو بالکل نو عمر لوگ ہیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کن باتوں پر آپ کی بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ چستی اور سستی ہر حال میں میری بات سنو گے اور اطاعت کرو گے، تنگی اور آسانی میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو گے، نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، اور یہ کہ تم اللہ کے معاملے میں سچی بات کہو گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرو گے، اور یہ کہ جب میں تمہارے پاس مدینہ آ جاؤں تو تم میری مدد کرو گے، اور جس طرح تم اپنی جانوں، اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری بھی حفاظت کرو گے، اور تمہارے لیے جنت ہے“، پس ہم بیعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا، وہ ان ستر افراد میں سب سے چھوٹے تھے، انہوں نے کہا: اے اہل یثرب! ذرا ٹھہرو، ہم اپنی سواریوں کو تھکا کر آپ کے پاس صرف اسی لیے آئے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آج آپ کو یہاں سے نکال کر لے جانے کا مطلب تمام عرب سے دشمنی مول لینا، اپنے بہترین لوگوں کا قتل ہونا اور تلواروں کی کاٹ برداشت کرنا ہے، اب اگر تم ایسے لوگ ہو جو ان تکالیف پر، اپنے عمائدین کے قتل پر اور تمام عرب کی مخالفت پر صبر کر سکتے ہو تو انہیں اپنے ساتھ لے چلو اور تمہارا اجر اللہ کے ذمے ہے، اور اگر تمہیں اپنے جی میں ذرا سا بھی خوف محسوس ہوتا ہے تو انہیں چھوڑ دو، وہ اللہ عزوجل کے ہاں زیادہ قابلِ قبول عذر ہو گا، لوگوں نے کہا: اے اسعد! اپنا ہاتھ ہم سے دور کرو، اللہ کی قسم! ہم نہ تو اس بیعت کو چھوڑیں گے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس ہم ایک ایک کر کے آپ کی طرف بڑھے اور آپ نے ہم سے ان شرائط پر بیعت لی تاکہ اس کے بدلے ہمیں جنت عطا فرمائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بیعتِ عقبہ کے تمام احوال پر مشتمل ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4297]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بیعتِ عقبہ کے تمام احوال پر مشتمل ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سُلَيم» [ترقيم الرساله 4297] [ترقيم الشركة 4274] [ترقيم العلميه 4251]
الحكم على الحديث: حديث قوي