🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. هِجْرَةُ عُثْمَانَ مَعَ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْحَبَشَةِ
حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4292
أخبرني إسماعيلُ بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَابٍ: أَنَّ عُثمانَ بن عفّان وامرأتَه رُقَيّة بنتَ رسولِ الله ﷺ خَرَجا مُهاجِرَين من مكة إلى الحبشة الهجرةَ الأولى، ثم قَدِما على رسول الله ﷺ مَكةَ، ثم هاجَرا إلى المدينة (3) . قد اتفقَ الشيخانِ على إخراج حديث شعيب بن أبي حمزة (4) وغيره، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عبيد الله بن عَدِيّ، عن المسور بن مَخْرَمة، في خروج عثمان بن عفّان إلى أرض الحبشة، وساقا الحديثَ بطُولِه، فلذلك اقتصرتُ على روايةِ موسى بن عُقبة عن ابن شِهَاب. وذكر ابن إسحاق في المَغَازي: أنَّ رُقيّة بنت رسولِ الله ﷺ فيما ذَكَرُوا، لم يُرَ في العَرَبِ ولا في الحَبَشِ أحسنُ منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4246 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی) سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا مکہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کر کے نکلے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ واپس آ گئے اور پھر (دوبارہ) مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
شیخین نے شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ کی ابن شہاب زہری سے روایت کردہ حدیث عثمان رضی اللہ عنہ کے ارضِ حبشہ کی طرف نکلنے کے متعلق بالاتفاق نقل کی ہے اور پوری طویل حدیث ذکر کی ہے، اسی لیے میں نے ابن شہاب سے موسیٰ بن عقبہ کی روایت پر اکتفا کیا ہے۔ ابن اسحاق نے مغازی میں ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے بقول پورے عرب اور حبشہ میں رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4292] [ترقيم الشركة 4269] [ترقيم العلميه 4246]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4293
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: قال أبو طالبٍ أبياتًا للنجاشيِّ يَحضُّهم على حُسْن جوارهم والدَّفْع عنهم: تَعَلَّمُ خِيارَ الناسِ أن مُحمدًا … وزيرٌ لِمُوسى والمسيحِ ابن مَريمِ أتى بهُدًى مثلَ الذي أتَيَا به … فكلٌّ بأمرِ اللهِ يَهدي ويَعصِمُ وإنكمُ تتلونَه في كتابِكُمْ … بصِدقِ حديثٍ لا حديثِ المُتَرجِّمِ وإنّك ما تَأتيكَ منها عصابةٌ … بفضلِكَ إِلّا أُرجِعُوا بالتَّكرُّمِ (1)
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ابو طالب نے نجاشی کے متعلق چند اشعار کہے جن میں انہیں مسلمانوں کے ساتھ حسنِ جوار اور ان کی مدافعت پر ابھارا گیا تھا: اے لوگوں میں بہترین شخص! یہ جان لیجیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے معین و مددگار (اسی مشن کے وارث) ہیں، وہ وہی ہدایت لے کر آئے ہیں جو وہ دونوں لائے تھے، پس ہر ایک اللہ کے حکم سے ہدایت دیتا اور (گناہوں سے) بچاتا ہے، اور تم اپنی کتاب میں بھی اسے سچی گفتگو کے ساتھ پاتے ہو نہ کہ کسی مترجم کی (تحریف شدہ) گفتگو، اور تمہارے پاس ان مسلمانوں کی جو بھی جماعت تمہارے فضل کی وجہ سے آئے گی وہ عزت و تکریم کے ساتھ ہی لوٹے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4293] [ترقيم الشركة 4270]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4294
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا إسحاق بن سعيد السَّعيدي، عن أبيه، عن أمِّ خالد بنت خالد، قالت: قَدِمتُ من أرض الحبشة وأنا جُويرِيَةٌ فكَسَان رسولُ الله ﷺ خَمِيصةً لها أعْلامٌ، فجعل رسولُ الله ﷺ يَمْسَحُ الأعلامَ بيدِه، ويقولُ:"سَنَاهُ سَنَاهُ"؛ يعني: حَسَنٌ حَسَنٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4248 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ارضِ حبشہ سے واپس آئی اور میں اس وقت چھوٹی بچی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کالی اونی چادر (خمیصہ) پہنائی جس پر نشانات بنے ہوئے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے ان نشانات کو مسح کرنے لگے اور فرمانے لگے: «سناه سناه» یعنی: خوبصورت ہے، خوبصورت ہے (حبشی زبان میں)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عُيينة.» [ترقيم الرساله 4294] [ترقيم الشركة 4271] [ترقيم العلميه 4248]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4295
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا الهيثَم بن خالد، حدثنا أبو غسان النَّهْدي، حدثنا الأجلح بن عبد الله، عن الشَّعْبي، عن جابر بن عبد الله، قال: لما قَدِمَ جعفرُ بن أبي طالب مِن أرضِ الحَبَشة، قال رسول الله ﷺ:"ما أدري بأيِّهما أنا أفرَحُ: بفتحِ خَيْبر، أم بقُدُومِ جعفر" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4249 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ارضِ حبشہ سے واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ مجھے ان دونوں میں سے کس بات پر زیادہ خوشی ہے: فتحِ خیبر پر یا جعفر کی آمد پر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنه عن الشَّعْبي - وهو عامر بن شَراحِيل - مرسلٌ كما سيأتي برقم (5006)، لكن روي ما يشهد له. الهيثم بن خالد: هو ابن يزيد ورّاق أبي نعيم، وأبو غسان النَّهْدي: هو مالك بن إسماعيل.» [ترقيم الرساله 4295] [ترقيم الشركة 4272] [ترقيم العلميه 4249]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں