المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. كَسْرُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصَّنَمَ الْأَكْبَرَ فَوْقَ الْكَعْبَةِ
حضرت علیؓ کا کعبہ پر نصب سب سے بڑے بت کو توڑنا
حدیث نمبر: 4311
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن موسى القُرشي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا نُعيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم الأَسَدِي، عن عليٍّ، قال: لما كان الليلةُ التي أمرني رسولُ الله ﷺ أن أَبِيتَ على فراشِه، وخَرَج من مكة مهاجرًا، انطَلَقَ بي رسولُ الله ﷺ إلى الأصنام، فقال:"اجلِسْ" فجلسْتُ إلى جنبِ الكعبة، ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ على مَنكِبِي، ثم قال:"انهَضْ" فنَهَضْتُ به، فلما رأى ضعفي تحته، قال:"اجلس"، فجلستُ، فأنزلته عني، وجلس لي رسول الله ﷺ، ثم قال لي:"يا علي، اصعد على منكبي" فصَعِدتُ على منكبه، ثم نهض بي رسولُ الله ﷺ، خُيل إليَّ أني لو شئتُ نِلْتُ السماء، وصَعِدتُ إلى الكعبة وتَنحَّى رسول الله ﷺ، فألقيتُ صنمهم الأكبر، وكان من نُحاس مُولَّدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال رسول الله ﷺ:"عالجه" فعالجت، فما زلت أعالجه ورسول الله ﷺ يقولُ:"إيه إيه" فلم أَزَلْ أُعالجه حتى استَمْكَنْتُ منه، فقال:"دُقَّهُ" فدقَقْتُه فكسَرتُه، ونَزلتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور خود ہجرت کر کے تشریف لے گئے، اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے (کعبہ میں موجود) بتوں کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ تو میں کعبہ کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر چڑھ گئے، پھر آپ نے مجھے کہا: اٹھو۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن جب آپ نے میری کمزوری پر توجہ کی تو فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں سے اتر گئے اور خود نیچے بیٹھ کر مجھے فرمایا: اے علی! میرے کندھوں پر بیٹھ جاؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھ گیا اور آپ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے (اس وقت) میں اپنے آپ کو اتنی اونچائی پر محسوس کر رہا تھا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو ہاتھ لگا سکتا تھا۔ پھر میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے سے ہٹ گئے تو میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا، یہ بت تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین سے بندھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اس کو ہلاؤ، میں نے اس کو ہلایا اور پھر مسلسل ہلاتا رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: اس کو اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ جب وہ بہت زیادہ ہلنے لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لڑھکا دو، میں نے اس کو لڑھکا دیا تو وہ ٹوٹ گیا اور میں کعبہ سے نیچے اتر آیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4311]