المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. تَعَاقُبُ سُرَاقَةَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَوْخُ يَدَيْ فَرَسِهِ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ
سراقہ کا نبی کریم ﷺ کا پیچھا کرنا اور گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس جانا
حدیث نمبر: 4315
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن إسحاق الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهم بن جَبَلة التّيمي (1) ، حدثنا موسى بن المساوِر، حدثنا عبد الله بن معاذ الصَّنْعاني، عن معمر بن راشد، عن الزهري، قال: أخبرني عبد الرحمن بن مالك المُدْلِجي - وهو ابن أخي سُراقة بن جُعْشُم - أنَّ أباه أخبره، أنه سمع سراقة بن جُعْشُم يقول: جاءتنا رسُلُ كفار قريش يَجعَلُون في رسول الله ﷺ وأبي بكر ديةً لكلِّ واحدٍ منهما لمن قتلهما أو أسرَهُما، فبينا أنا جالس في مجلس من مجالس قومي من بني مدلج، أقبل منهم رجل حتى قام علينا، فقال: يا سراقة، إني رأيتُ آنفًا أسودةً بالساحل، أُراها محمدًا وأصحابه، قال سُراقة: فعرفتُ أنهم هم، فقلت لهم: إنهم ليسوا بهم، ولكني رأيتُ فلانًا وفلانًا انطلقُوا بُغاةً. قال: ثم ما لبثت في المجلس إلا ساعة حتى قمتُ فدخلت بيتي، فأمرتُ جاريتي أن تُخرج إلي فرسي، وهي وراءَ، أكَمَةٍ، فَحَبَسَتْها علي، وأخذتُ رُمحِي، فخرجتُ من ظهر البيت فخَطَطتُ بزُجِّهِ إلى الأرضِ وخَفَضْتُ عاليةَ الرُّمح، حتى أتيتُ فرسي فركبتها فدفعتها (1) تُقرِّبُ بي، حتى رأيتُ أسودَتهما، فلما دنوت منهم حيث أُسمِعهم الصوتَ عَثَر فرسي، فخَرَرتُ عنها، فقمتُ فأهوَيتُ بيدي إلى كنانتي فاستخرجت الأزلام، فاستقسمتُ بها، فخرج الذي أكره أن لا أضُرَّهم، فعصيتُ الأزلام فركبتُ فرسي فدفعتها تُقرّب بي، حتى إذا دنوت منهم سمعت قراءة النبي ﷺ، وهو لا يلتفتُ وأبو بكر يُكثر الالتفات، فساخَتْ يدا فرسي في الأرض حتى بلغتا الرُّكبتين، فخَرَرْتُ عنها، ثم زَجَرتُها فنهضَتْ، فلم تَكَدْ تَخرج يداها، فلما استوت قائمةً إذا ليديها عُثَانُ (2) ساطِعٌ في السماء - قال عبد الله: يعني الدخان الذي يكون من غير نار - ثم أخرجتُ الأزلام، فاستقسَمْتُ بها، فخرج الذي أكره أن لا أضُرَّهما، فناديتهما بالأمان فوقفا، فركبتُ فرسي حتى جئتُهما، فوقع في نفسي حين لقيتُ ما لقِيتُ من الحبس عليهم أن سيظهرُ أمرُ رسول الله ﷺ، فقلت: إنَّ قومَك قد جعلوا فيك الدِّيَةَ، وأخبرتُهم من أخبار سَفَرِهم وما يريدُ الناس بهم، وعرضتُ عليهم الزاد والمتاع، فلم يَرْزَؤُوني شيئًا، ولم يسألوني إلا أن قالوا: اخْفِ عنا، فسألتُ رسول الله ﷺ أن يكتب لي كتابَ مُوادَعَةِ آمَنُ به، فأمر عامر بن فهيرة مولى أبي بكر فكتب لي في رقعة من أدم، ثم مَضَيا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4269 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4269 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قتل پر یا ان کو گرفتار کرنے پر انعام مقرر کیا۔ میں قبیلہ بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی میری طرف متوجہ ہو کر بولا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کے پاس کچھ لوگوں کو دیکھا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھی ہیں۔ سراقہ نے کہا: کیا تجھے یقین ہے کہ وہ واقعی وہی لوگ تھے؟ اس نے کہا: نہیں (میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ) وہ وہی ہیں، البتہ میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے وہ باغی ہو کر بھاگ گئے ہیں۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک ہی لمحے کے بعد اس مجلس سے نکل آیا اور اپنے گھر آ گیا۔ اپنی لونڈی سے کہا کہ میرا گھوڑا نکالے (یہ ٹیلے کے پیچھے ہوتا تھا) اور اس کو میرے لیے تیار کر کے رکھے۔ میں اپنے گھر کے پچھواڑے سے نکلا، اپنے نیزے کے پچھلے حصے کے لوہے کو زمین پر گھسیٹتا ہوا، اس کے اوپر والے حصے کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنا نیزہ ہمراہ لے کر اپنے گھوڑے تک پہنچا، اور اس پر سوار ہو کر ان کی جانب چل نکلا۔ مجھے دور سے ان کا وجود دکھائی دیا۔ پھر جب میں ان کے اتنا قریب ہوا کہ میں ان کی گفتگو سن سکتا تھا تو میرا گھوڑا پھسل کر اوندھا ہو گیا۔ اور میں اس سے گر گیا۔ پھر میں اٹھا، ترکش سے تیر نکالے اور پانسہ ڈالا۔ تو جواب یہ آیا کہ ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے لیکن یہ جواب مجھے منظور نہ تھا۔ میں نے پانسے کا جواب ٹھکرا دیا اور دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب بڑھا، جب میں ان کے قریب پہنچا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی آواز سنائی دی، آپ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے۔ لیکن ابوبکر کی توجہ بدستور چاروں جانب تھی۔ اچانک میرے گھوڑے کی اگلی ٹانگیں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئیں اور میں اس سے گر گیا۔ میں نے گھوڑے کو بہت جھڑکا اور بہت ڈانٹا، وہ اٹھنے کی کوشش تو کرتا رہا لیکن اس کی ٹانگیں بڑی مشکل کے ساتھ باہر نکلیں، جب وہ صحیح طور پر کھڑا ہو گیا تو اس کی ٹانگوں پر آسمان پر پھیلنے والے بادلوں جیسے اثرات تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یعنی وہ دھواں سا تھا جو آگ کے بغیر ہوتا ہے۔ میں نے پھر تیر نکال کر پانسہ ڈالا اب کی بار بھی وہی جواب آیا کہ مجھے ان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، لیکن یہ جواب مجھے پسند نہیں تھا۔ پھر میں نے ان کو امان کے لیے آواز دی تو وہ کھڑے ہو گئے۔ میں گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے قریب آ گیا تو ان پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے میرے دل میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ عنقریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ غالب آ جائے گا۔ تو میں نے آپ سے کہا: آپ کی قوم نے آپ کے بارے میں انعام کا اعلان کر رکھا ہے اور میں نے ان لوگوں کی بھاگ دوڑ اور ان کے ارادوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا اور میں نے کچھ مال و متاع بھی پیش کیا۔ لیکن انہوں نے مجھ سے کوئی چیز بھی قبول نہ کی اور نہ ہی مجھ سے کچھ پوچھا سوائے اس کے کہ مجھے اپنا معاملہ صیغہ راز میں رکھنے کا حکم دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی جاتے جاتے مجھے کوئی نصیحت لکھ دیں جو مجھے امن دے۔ تو آپ علیہ السلام نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ کو حکم دیا تو انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دے دی پھر وہ چلے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4315]
حدیث نمبر: 4316
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلحان، حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن عبد الله بن عَدِيّ بن الحَمْراء الزُّهْري، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ وهو على راحلته بالحَزْوَرَةِ (2) يقولُ:"والله إنكِ لَخيرُ أَرضِ اللهِ وأحبُّ أرض الله إلى الله، ولولا أني أُخرجتُ منكِ ما خَرجت (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4270 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4270 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عدی بن الحمراء الزہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حزورہ (پانی اور گڑھے والی زمین) میں اپنی سواری پر (سرزمین مکہ کو مخاطب کر کے) یہ ارشاد فرماتے سنا ہے ” خدا کی قسم! تو اللہ تعالیٰ کی تمام زمین سے افضل جگہ ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی پوری زمین سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اگر مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں تجھ سے نہ نکلتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4316]
حدیث نمبر: 4317
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا علي بن سعيد، حدثنا يونس بن حبيب، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: لما خرج رسول الله ﷺ من مكة، قال أبو بكر: إنَّا لله وإنا إليه راجِعُون، أُخرجَ رسول الله ﷺ لَيَهلِكُن. قال: فنزلت هذه الآية: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ [الحج: 39 - 40] ، عَرَفَ أبو بكر أنه سيكون قتال (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکلے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انا للّٰہ وانا الیہ راجعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا ہے اب یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} [الحج: 39، 40] ” پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے۔“ تب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ اب عنقریب جہاد (کا حکم نازل) ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4317]