🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. تعاقب سراقة رسول الله وسوخ يدي فرسه عند رؤيته
سراقہ کا نبی کریم ﷺ کا پیچھا کرنا اور گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4317
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا علي بن سعيد، حدثنا يونس بن حبيب، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: لما خرج رسول الله ﷺ من مكة، قال أبو بكر: إنَّا لله وإنا إليه راجِعُون، أُخرجَ رسول الله ﷺ لَيَهلِكُن. قال: فنزلت هذه الآية: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ [الحج: 39 - 40] ، عَرَفَ أبو بكر أنه سيكون قتال (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکلے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انا للّٰہ وانا الیہ راجعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا ہے اب یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} [الحج: 39، 40] پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے۔ تب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ اب عنقریب جہاد (کا حکم نازل) ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4317]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4317 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وشُعْبة: هو ابن الحجاج، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومسلم البطين: هو ابن عمران.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو داؤد سے مراد "سلیمان بن داؤد الطیالسی" ہیں، شعبہ سے مراد "ابن الحجاج" ہیں، اعمش سے مراد "سلیمان بن مہران" ہیں اور مسلم البطین سے مراد "ابن عمران" ہیں۔
وقد سلف برقم (2407) من طريق سفيان الثوري عن الأعمش. وتقدم هناك الكلام على القراءة.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے (رقم 2407) پر سفیان ثوری عن الاعمش کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں قرات پر کلام بھی ہو چکا ہے۔